اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 130
130 یہ حق حاصل تھا کہ آپ ملا لیے اپنی تحقیر کرنے والوں کو معاف کر دیں۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۸۱۹۸۰) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ اس آیت میں بھی منافقین کا ذکر کیا گیا ہے اور منافقین کی قرآن کریم نے نشانی ہی یہی بیان فرمائی ہے کہ وہ جب مومنوں میں بیٹھتے ہیں تو ان کی طرف کی بات کرتے ہیں اور جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس جاتے ہیں تو ہنسی مذاق اور ٹھٹھہ کرتے ہیں۔ان کا یہ فعل ہی ان کو منافق ٹھہراتا ہے ورنہ صریح انکار کرنے والے کو کافر کہا جاتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منافق اگر کافر بھی ہو جائے تو اس کے ہنسی مذاق اور ٹھٹھہ کرنے کی بنا پر قتل کرنے کا پھر بھی کہیں حکم نہیں پایا جاتا۔بلکہ کافروں کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ یہ ایسے ہیں کہ ”جو لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر کفر میں (اور بھی) بڑھ گئے۔اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کر سکتا اور نہ انہیں ( نجات کا) کوئی راستہ دکھا سکتا ہے۔تو منافقوں کو ( یہ ) خبر سنادے کہ ان کے لئے درد ناک عذاب ( مقدر) ہے۔“ (النساء آیت ۱۳۸) اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے کافروں کو انکار کی بنا پر قتل کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ بات بیان کردی کہ ایمان کے بعد کفر اختیار کر لینے کے بعد بھی دوبارہ ایمان لانے کی امید ہوتی ہے اس لئے فرمایا کہ یہ ایمان لاتے ہیں پھر کفر کرتے ہیں پھر ایمان لاتے ہیں پھر کفر کرتے ہیں ایسا کرنے پر بھی بندوں کو اختیار نہیں دیا کہ وہ ان کے انکار اور کفر کی بنا پر ان کو قتل کر دیں بلکہ ان کے کفر کے نتیجہ میں ان کو سزادینا انکو عذاب دینا یہ اللہ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے۔اس آیت سے قطعاً یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ جو کوئی بھی ہنسی مذاق اور ٹھٹھہ کرے وہ کافر ہو جا کر قتل کئے جانے کے قابل ٹھہرتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول کریم علیل لیلی نے ایسی ہنسی کرنے