اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 129
129 قَد كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبُ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (التوبة ۶۴ تا ۶۶) یعنی۔منافق ( دکھاوے کے طور پر ) ڈر کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی سورۃ نازل نہ ہو جائے جو انہیں ( اور مسلمانوں کو ) ان باتوں سے خبر دار کر دے جو ان کے دلوں میں ہیں۔تو کہہ دے کہ ہنسی کرتے جاؤ۔اللہ (حقیقتاً) اس بات کو ظاہر کر دے گا جس (کے ظاہر کرنے ) سے تم ( بناوٹ سے) ڈرتے ہو۔اور اگر تو اُن سے پوچھے ( کہ تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو) تو وہ ضرور یہی جواب دیں گے ہم تو صرف مذاق اور ہنسی کرتے تھے۔تو ان کو جواب دیجیو کہ کیا اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول سے مذاق اور ہنسی کرتے تھے۔اب کوئی عذر نہ کرو تم نے ایمان لا کر کفر کیا (پس اس کی سزا پاؤ ) اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کردیں اور ایک گروہ کو عذاب دیدیں اس لئے کہ وہ مجرم تھے ( تو یہ ہمارا کام ہے ) 2 قرآن کریم کی اس آیت پر تبصرہ کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں یہ آیت اس ضمن میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیت اور اس کے رسول کا مذاق اڑانا کفر ہے ، پس گالی دینا طریق اولی مقصود ہے۔یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسول کریم علیم کی توہین کرے ، خواہ سنجیدگی سے ہو یا ازراہ مذاق وہ کافر ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ان لوگوں نے جب رسول کریم علیہ اور آپ کے اہل علم صحابہ کی تحقیر اور مذمت کی اور آپ کی باتوں کو اہمیت نہ دی تو اللہ نے خبر دی کہ ان لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے اگر چہ یہ بات انہوں نے مذاق کے طور پر کہی تھی ، پھر جو چیز اس سے شدید تر ہو گی اس کا کیا حال ہو گا ؟ ان پر حد اس لئے نہ لگائی کہ ابھی منافقین کے خلاف جہاد کا حکم نازل نہ ہوا تھا، بخلاف ازیں آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ ان کی ایذارسانی کو نظر انداز کردیں، نیز اس لئے کہ آپ کو