اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 127
127 بات صاف ہے کہ اس آیت میں منافقوں کا ذکر ہے اور آنحضرت علیم نے کسی منافق کو بھی قتل کرنے کا حکم نہیں فرمایا اور یہ بات جن لوگوں نے بھی کہی تھی آنحضور بیل لیلی نے ان میں سے بھی کسی کو قتل کرنے کا ارشاد نہیں فرمایا۔تو یہ کہنا ہی درست ثابت نہیں ہوتا کہ اس آیت سے کسی کافر یا منافق کے قتل کا جواز بنتا ہے۔اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولانا محمد شفیع صاحب مفہو اعظم پاکستان لکھتے ہیں۔آیات مذکورہ میں بھی سابقہ آیات کی طرح منافقین کے بیہودہ اعتراضات اور رسول اللہ علیم کی ایذاء رسانی اور پھر جھوٹی قسمیں کھا کر ایمان کا یقین دلانے کے واقعات اور ان پر تنبیہ ہے۔پہلی آیت میں مذکور ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ صل علیم کے متعلق بطور استہزاء یہ کہتے ہیں کہ وہ تو بس کان ہے یعنی جو کچھ کسی سے سن لیتے ہیں اسی پر یقین کر لیتے ہیں ، اس لئے ہمیں کچھ فکر نہیں، اگر ہماری سازش کھل بھی گئی تو ہم پھر قسم کھا کر آپ کو اپنی براءت کا یقین دلا دیں گے جس کے جواب میں حق تعالیٰ نے ان کی حماقت کو واضح فرما دیا، کہ وہ جو منافقین اور مخالفین کی غلط باتوں کوشن کر اپنے مکارم اخلاق کی بناء پر خاموش ہور ہتے ہیں اس سے یہ نہ سمجھو کہ آپ کو حقیقت حال کی سمجھ نہیں ، صرف تمہارے کہنے پر یقین کرتے ہیں ، بلکہ وہ سب کی پوری پوری حقیقت سے باخبر ہیں، تمہاری غلط باتیں سُن کر وہ تمہاری سچائی کے قائل نہیں ہو جاتے، البتہ اپنی شرافت نفس اور کرم کی بنا پر تمہارے منہ پر تمہاری تردید نہیں کرتے۔“ ( معارف القرآن جلد ۴ صفحه ۴۱۶ شائع کرده دارالکتب دیوبندیوپی) اسی طرح مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب اسی آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں منافقین نبی صلی لا سلیم کو جن عیوب سے متہم کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی