اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 126 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 126

126 رسول کا دشمن اور اس کے خلاف جنگ لڑنے والا ہوگا اس جگہ کافر کہہ کر یہ کہنا کہ اللہ اور اس کے رسول کا دشمن اور اس کے خلاف جنگ لڑنے والا ہوگا بتا تا ہے کہ صرف ایذا دینا ہی کسی کوسزا دینے کا موجب نہیں ہو سکتا بلکہ اس پر سزا تب واجب ہوگی جب وہ جنگ بھی کرے گا۔بات صاف ہے جو جنگ کرے اس کو سزا اس کے جنگ کرنے کی بنا پر دی جائے گی۔علامہ طاہر القادری صاحب نے بھی اس آیت کو پیش کیا ہے آپ فرماتے ہیں۔”یہاں یہ بات واضح رہے کہ اذیت سے مراد زبانی طعن و تشنیع ، دشنام طرازی ، گستاخی و اہانت اور ادب و احترام تعظیم و توقیر کے منافی کوئی کلمہ جو آداب تعظیم سے فروتر ہوادا کرنا باعث اذیت و تکلیف ہے۔قرآن حکیم مذکورہ بالا آیت کریمہ میں منافقین کی اذیت رسول علی کی ایک صورت واضح کر رہا ہے کہ وہ مخالفین اپنے خبث باطن کی وجہ سے حضور نبی کریم بلایی کواذیت دینے کی کوشش کرتے اور ( معاذ اللہ ) یوں کہتے کہ یہ رسول صل عالم کانوں کا اس قدر کچا ہے کہ جو بات بھی تم جا کر کہ دو وہ فوراً اسے تسلیم کرلے گا اور اگر تم اپنے کئے ہوئے وعدے سے انحراف بھی کر جاؤ تو تمہیں گھبرانے اور پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ جب تم قسمیں کھا کر بات کرو گے تو وہ تمہاری بات پر اعتما دو بھروسہ کرلے گا۔غرض ادھر منافقین نے اپنی بدبختی کی وجہ سے ھواذن ( کان کے کچے ہیں ) کا کلمہ کہا تو ادھر بارگاہ الوہیت سے شان غیبیت کا اظہار ہوا اور اپنے محبوب بیل اللہ کی شان میں اتنا کلمہ کہنے کو صریح گمراہی وضلالت کھلی تو بین و تنقیص قرار دیا۔اسی سبب سے دنیا و آخرت کی ذلالت ورسوائی کو ان کا مقدر ٹھہرا دیا، جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ان کا مسکن بنی اس طرح ان کا یہ قول ان کے نفاق کی بنیاد بھی قرار پایا۔“ (تحفظ ناموس رسالت شائع کردہ منہاج القرآن پبلیکیشنز لاہور صفحہ ۱۵۰ و۱۵۱)