اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 109
109 قرآن کریم اور توہین رسالت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا واقعہ محفوظ کیا ہے جو رسول کریم علیم کی زندگی ہی میں پیش آیا اس کا ذکر احادیث نبوی صلیم میں بھی موجود ہے اور تاریخ اسلام لکھنے والوں نے بھی اسے محفوظ کیا ہے۔اس واقعہ پر رسول کریم علی یا علم کا اسوہ ہمارے لئے اس معاملہ میں راہنما اصول ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (المتفقون آیت۹) یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو جو مدینہ کا سب سے معزز آدمی ہے وہ مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی کو اس سے نکال دیگا۔اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ہی حاصل ہے لیکن منافق جانتے نہیں۔“ واقعہ غزوہ مصطلق کا ہے کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول ایک جگہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ مدینہ پہنچ کر وہاں کا عزت والا شخص وہاں کے ذلیل شخص کو مدینہ سے نکال دیگا۔جب یہ بات اس نے کہی اس مجلس میں ایک بچہ زید بن ارقم بھی بیٹھے تھے جب آپ نے یہ بات سنی تو آپ بے تاب ہو گئے آپ نے فوراً ہی اپنے چچا کے ذریعہ اس واقعہ کی اطلاع آنحضرت حلالم کو دی۔اس وقت حضرت عمر بھی وہاں بیٹھے تھے یہ الفاظ سن کر غیرت اور غصہ سے بھر گئے۔اور آنحضرت علیم سے عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیں میں ابھی اس منافق کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا ”عمر جانے دو۔کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ لوگوں میں یہ چر چاہو کہ محمد