اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 104
104 دے اسے قتل کیا جائے اگر چہ گرفتار ہونے کے بعد مسلمان کیوں نہ ہو جائے۔وہ کہتے ہیں کہ اسے سیاست قتل کیا جائے۔یہ بات حنفیہ کے سابق الذکر اصول پر مبنی ہے۔“ ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۴۹) اب تک جن لوگوں نے بھی شاتم الرسول یا گستاخ رسول کے عنوان پر کتابیں لکھی ہیں ان سب نے اپنے مؤقف کی تائید میں امام ابن تیمیہ کی اسی کتاب الصارم المسلول کا سہارا لیا ہے۔اور ہر مصنف نے اس بات کو پیش کیا ہے کہ اس معاملہ میں امت کا اجماع ہے کہ گستاخ رسول شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اسی بات کو بار بار دہرایا گیا ہے۔اس وقت تک جس قدر بھی کتب میری نظر سے گزری ہیں ان میں روایات کی روشنی میں اس مسئلہ پر امت کے اجماع کی بات کی گئی ہے۔قرآن کریم سے یا حدیث نبوی علیم سے کوئی ایک آیت بھی یا کوئی ایک حدیث بھی ایسی پیش نہیں کی گئی جس میں گستاخ رسول یا شاتم رسول کو قتل کرنے کا واضح حکم ہو۔البتہ قرآن کریم کی آیات یا بعض احادیث کو پیش کر کے ان سے تو جیہ کی گئی ہے۔گستاخ رسول کو قتل کرنے کے حامیوں نے جن آیات یا احادیث کو اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کیا ہے ان پر بھی آگے چل کر غور کیا جائے گا انشاء اللہ تعالی۔لیکن اس جگہ یہ بات واضح کرنی ضروری ہے کہ اجماع امت کسے کہتے ہیں۔اس سلسلہ میں عرض ہے کہ اجماع امت اس بات میں مانا جائے گا جس میں امت کے تمام علماء مفکرین، محدثین، مفسرین، مؤرخین، مفتیاں آئمہ و علماء شرح متین حالیان و سابقین تمام کے تمام کسی ایک مسئلہ پر متفق اور متحد ہوں اور کوئی رائی برابر بھی اختلاف نہ پایا جاتا ہو۔علماء کرام کی طرف سے اس معاملہ میں جو یہ بات بار بار لکھی جاتی ہے کہ اس بات پر امت کا اجماع ہے درست دکھائی نہیں دیتی۔اوپر پیش کئے گئے چند حوالوں ہی کو دیکھ لیں صاف دکھائی دیتا