اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 75 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 75

75 دیدے یا قتل کر دے۔ایسا فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف حکومت وقت اور حاکم وقت کو حاصل ہے۔جو واقعات اوپر بیان کئے گئے ہیں عصر حاضر کے مسلمانوں کے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے۔مسلمانوں کو ہمیشہ اسوہ رسول میلہ پر عمل کرنا چاہئے اور کبھی بھی اس حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے جس سے آگے بڑھنے کی اسلام قرآن اور اسوۂ رسول اجازت نہیں دیتا۔اب میں تیسری بات کی طرف آتا ہوں کہ کیا آزادی رائے کا حق کسی قوم کسی مذہب یا کسی شخص کے لئے ہی خاص ہے یا پھر یہ حق ہر کسی کو حاصل ہے۔؟ دیکھا یہ جاتا ہے کہ تمام دنیا کے ممالک قانونی لحاظ سے ہر شخص کو یہ حق دیتے ہیں۔اور آج کل تو یہ آواز زیادہ ہی بلند ہوئی دکھائی دیتی ہے۔دنیا داری کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تجارت ہوسیاست ہو ثقافت ہو ہمیں ان تمام امور میں آزادی رائے دکھائی دیتی ہے۔مثلاً ایک شخص کوئی چیز تیار کرتا ہے اسے دیکھا دیکھی دوسرا بھی تیار کر لیتا ہے۔دوسرے شخص کو اپنی چیز بیچنے کے لئے پہلے والے کی بنائی ہوئی چیز کی دو چار خامیاں بیان کر کے اپنے سامان کی دو چار خوبیاں بتانی ہونگی تبھی اس کا مال فروخت ہوگا یہ تنقید کہلاتی ہے۔جب پہلے والے کو دوسرے کا پتہ چلتا ہے تو وہ بھی مارکیٹ میں اترنے والے نئے مال کی خوب برائی کر کے اپنے مال کو اچھابتانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے لیکن کسی نے بھی آج تک یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ کوئی اس ایک دوسرے کے مال پر تنقید کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے خلاف قتل کا فتویٰ دیکر اس تنقید کرنے والے کو قتل کر دے۔یہ میں نے ایک مثال دی ہے دنیا داری کے تمام معاملات میں خوب تنقید بھی ہوتی ہے اور برداشت بھی کی جاتی ہے لیکن جہاں مذہب اور دین کا معاملہ آتا ہے تو لوگوں کے رجحانات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور ذراسی تنقید پر بھی ایک دوسرے کو مارنے توڑنے میں لگ جاتے ہیں جب کہ دین اور مذہب ہی