اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 41 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 41

41 اور اکمل طریق معنے کرنے کا تو یہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیحہ مرفوع متصل نہ مل سکے تو ادنی درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں۔لیکن ہر گز یہ درست نہیں ہوگا کہ بغیر ان دونوں قسم کے التزام کے اپنے ہی خیال اور رائے سے معنی کریں۔کاش اگر پادری عمادالدین وغیرہ اس طریق کا التزام کرتے تو نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کی ہلاکت کا موجب ٹھہرتے۔دوسری نصیحت اگر پادری صاحبان سنیں تو یہ ہے کہ وہ ایسے اعتراض سے پر ہیز کریں جو خود ان کی کتب مقدسہ میں بھی پایا جاتا ہے۔مثلاً ایک بڑا اعتراض جس سے بڑھ کر شاید اُن کی نظر میں اور کوئی اعتراض ہمارے نبی علم پر نہیں ہے وہ لڑائیاں ہیں جو آنحضرت علی ایم کو باذن اللہ ان کفار سے کرنی پڑیں جنہوں نے آنحضرتعلیم پر تیرہ برس تک انواع اقسام کے ظلم کئے اور ہر یک طرق سے ستایا اور دکھ دیا اور قتل کا اردہ کیا جس سے آنحضرت علی ایم کو معہ اپنے اصحاب کے مکہ چھوڑنا پڑا۔اور پھر بھی باز نہ آئے اور تعاقب کیا اور ہر یک بے ادبی اور تکذیب کا حصہ لیا اور جو مکہ میں ضعفاء مسلمانوں میں سے رہ گئے تھے ان کو غایت درجہ دکھ دینا شروع کیا۔لہذاوہ لوگ خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنے ظالمانہ کاموں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ اُن پر موافق سنت قدیمہ الہیہ کے کوئی عذاب نازل ہو اور اس عذاب کی وہ قومیں بھی سزاوار تھیں جنہوں نے مکہ والوں کو مدد دی۔اور وہ قومیں بھی جنہوں نے اپنے طور پر ایذاء اور تکذیب کو انتہا ء تک پہنچایا اور اپنی طاقتوں سے اسلام کی اشاعت سے مانع آئے۔سو جنہوں نے اسلام پر تلواریں اٹھائیں وہ اپنی شوخیوں کی وجہ سے تلواروں سے ہی ہلاک کئے گئے۔اب اس صورت کی لڑائیوں پر اعتراض کرنا اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی ان لڑائیوں کو بھلا دینا جن میں لاکھوں شیر خوار بچے قتل کئے گئے۔کیا یہ دیانت کا طریق ہے