اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 223
223 تاریخ میں روایات لیتے ہوئے تامل نہیں ہونا چاہئے لیکن جب حلال و حرام کے مسائل کا سوال ہو تو ہمیں ایسے آدمی چاہئیں۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی چار انگلیاں مضبوطی کے ساتھ ملا کر باہم جفت کرلیں۔جس سے مراد یہ تھی کہ حدیث میں ایسے راوی درکار ہیں جن میں کوئی رخنہ نہ نکالا جا سکے۔الغرض حدیث اور سیرۃ کی روایات کے معیار میں ہمیشہ سے ایک اصولی فرق مد نظر رکھا گیا ہے اور یہی ہونا چاہئے تھا، کیونکہ حدیث میں جس کی روایت نے دین کی بنیاد بننا تھا سخت معیار رکھنا ضروری تھا تا کہ کوئی کمز ور روایت حدیث کے ذخیرہ میں راہ پا کر دینی فتنہ کا باعث نہ بنے، لیکن سیرۃ و تاریخ میں یہ پہلو ایسا خطر ناک نہیں تھا۔بلکہ سیرۃ و تاریخ میں زیادہ قابل توجہ یہ بات تھی کہ اساسی مواد جمع ہو جائے جس میں بعد میں اصول مقررہ کے ماتحت چھان بین کی جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی کتب حدیث کا روایتی پہلو کتب سیرۃ ومغازی وغیرہ کی نسبت بہت زیادہ مضبوط اور بانڈ سمجھا گیا ہے۔مگر یہ کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا تا کہ جہاں ایک طرف دین کوفتنہ و اختلاف سے بچایا جاتا وہاں تاریخ میں جامعیت قائم رہتی۔خوب سوچ لو کہ تاریخ کے لئے یہی پالیسی مناسب تھی۔سوائے اس کے کہ کوئی روایت بالبداہت غلط اور باطل ہو ہر وہ روایت لے لی جاوے تاکہ بعد کی تحقیق اور ریسرچ کے لئے ایک بنیادی ذخیرہ محفوظ ہو جائے مگر حدیث کے لئے یہ پالیسی سخت نقصان دہ تھی ، کیونکہ اس کے لئے ضروری تھا کہ معیار کو ایسا سخت رکھا جائے کہ خواہ کوئی مضبوط روایت گر جائے مگر بہر حال جو حدیث لی جائے وہ پختہ اور قابل اعتماد ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ احادیث کا سارا مجموعہ غلطی سے پاک ہے یا یہ کہ سیرۃ و تاریخ کا مجموعہ کمز ور روایات پر مبنی ہے بلکہ غرض صرف یہ ہے کہ بالعموم حدیث کا معیار سیرۃ و تاریخ سے بالا و بلند ہے۔اور اسی لئے مسلمان مؤرخین میں سے جو لوگ زیادہ