اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 103
103 ہے۔امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے، جو شخص اس کے کفر اور اس کی سزا میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول اردو ترجمہ مترجم پروفیسر غلام احمد حریری ناشر مکتبہ قدوسیہ رحمان مارکیٹ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور پاکستان سن اشاعت ۲۰۱۱ صفحه (۴۰٫۳۹ اسی طرح لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صل اہلیہ کو گالی دینے سے نہ تو وقی کا عہد ٹونتا ہے اور نہ اس کا قتل لازم آتا ہے مگر اعلامیہ ایسا کرنے کی وجہ سے اس پر اسی طرح تعزیر لگائی جائے جس طرح دیگر منکرات کا اعلانیہ ارتکاب کرنے پر لگائی جاتی ہے۔مثلاً اپنی مذہبی کتاب کو بآواز بلند پڑھنا وغیرہ طحاوی نے یہ مؤقف امام ثوری سے نقل کیا ہے۔( مختصر الطحاوی صفحہ ۲۶۲) حنیفہ کا اصول یہ ہے کہ جن افعال کے ارتکاب سے فاعل کا قتل لازم نہیں آتا مثلا! بھاری پتھر پھینک کر کسی کو قتل کرنا یا فرج کے سوا کسی اور عضو میں جماع کرنا اگر ایسے فعل کا صدور فاعل سے کئی مرتبہ ہو تو حاکم ایسے شخص کو قتل کر سکتا ہے۔اسی طرح اگر حاکم اس میں مصلحت دیکھے تو شرعی حد سے زیادہ سزا دے سکتا ہے۔ایسے جرائم کی سزا میں قتل کی جو روایات رسول کریم علی ایم او صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے منقول ہیں وہ ان کو اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ مصلحت کا تقاضا یہی تھا، اس کا نام وہ سیاست قتل کرنا ر کھتے ہیں۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جن جرائم میں تکرار و اعادہ کی وجہ سے شدت پیدا ہو گئی ہو ان میں قتل کی سزا دی جاسکتی ہے۔بنابریں اکثر حنفیہ نے فتوی دیا ہے کہ جو زمی نبی کریم ملالہ اہلیہ کو گالی