اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 58
58 کرتے ہیں) وہ اسی ذلیل حالت میں رہیں گے۔نہ ان کا عذاب کم کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے۔ہاں وہ لوگ جو خود تو بہ کر لیں اور پھر اصلاح کرلیں تو وہ اللہ کو ظالم اور منتقم نہیں پائیں گے۔بلکہ بہت ہی زیادہ بخشش کرنے والا اور رحم کرنے والا پائیں گے۔چوتھی آیت فرمایا: اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَيكَ هُمُ القَاتُوْنَ o اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَا تُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ تصِرِينَ (ال عمران : ۹۱-۹۲) یقیناً وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے۔پھر وہ کفر میں ترقی کرتے چلے گئے۔(اگر وہ فورا قتل کر دئے گئے تھے تو انہوں نے کفر میں ترقی کیسے کر لی تھی ؟ ) ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔یہ بہت بڑے گمراہ لوگ ہیں“ ٹیڑھا استدلال میں نے سنا ہے کہ بعض علماء نے آیت لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُم “ سے بھی قتل مرتد کا استنباط کیا ہے کہ دیکھو ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور وقتل کئے جائیں گے۔مگر اگلی آیت اس کا کلیتا روفرما رہی ہے۔فرمایا: اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَا تُوا وَهُمْ كُفَّارُ