اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 57

57 کے صبح کے وقت ایمان لا کر شام کو مرتد ہونے میں ان کے لئے کوئی خطرہ نہ تھا۔تیسری آیت پھر فرماتا ہے: كَيْفَ يَهْدِى اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوا أَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَتُ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ b الظَّلِمِينَ ) أُولَيكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَيْكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لا خَلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَاَصْلَحُوا " فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (ال عمران: ۸۷ تا ۹۰) یہاں قتل مرتد کے مضمون کو مکمل طور پر بیان فرما دیا۔فرمایا: کس طرح اللہ ہدایت دے ایسی قوم کو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا ؟ ( یہاں یہ نہیں فرمایا کہ کس طرح خدا زندہ رہنے کی اجازت دے؟ کس طرح انہیں چلتا پھرتا باقی چھوڑے؟ صرف ہدایت کا مضمون چھیڑا ہے۔پھر فرمایا) اور انہوں نے انکار کیا بعد اس کے کہ انہوں نے گواہی دی کہ یہ رسول سچا ہے۔اور زبانی قرار ہی نہیں کیا تھا بلکہ کھلے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد انکار کیا۔اللہ ظالموں کو تو ہدایت نہیں دیا کرتا۔(لیکن آج کل کے علماء تلوار کے زور سے ہدایت دینے کا ملکہ رکھتے ہیں) مذکورہ مرتدوں کی سزا یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اور اس کے فرشتے اور سارے کے سارے انسان ان پر لعنت ڈالتے ہیں ( یہ نہیں فرمایا کہ ایسے لوگوں کو قتل