اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page viii
vii مقدمه آغاز اسلام سے لے کر آج تک اسلام اور عالم اسلام کو دشمنوں سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا خود بعض سادہ لوح مسلمان علماء کے ہاتھوں پہنچا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ دشمنان اسلام نے بھی اکثر اوقات ان سادہ لوح علماء کے جاہلا نہ فتقوں کو ہی بنیاد بنا کر اسلام پر حملے کئے ہیں۔علماء میں یہ غلط رجحان اس لئے پیدا ہوا کہ انہوں نے اپنے سیاسی اور تمدنی ماحول سے متاثر ہو کر اسلام کے بعض احکامات کی ایسی تشریحات کو جو سیاسی رنگ لئے ہوئے تھیں ترجیح دی اور قرآن کریم کی واضح تعلیمات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو پس پشت ڈال دیا۔قتل مرتد کا عقیدہ بھی ان غلط رجحانات اور بے بنیا د نظریات میں سے ایک ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس خوفناک عقیدہ کی کوئی بنیاد نہ تو قرآن کریم میں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ میں، بلکہ یہ محض ایک سیاسی نظر یہ تھا جسے عباسی خلفاء اور دوسرے حکام نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے بعض متعصب علماء کی مدد سے اختراع کیا یہاں تک کہ اس دور کے دوسرے غیر متعصب علماء بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اور بدقسمتی سے بعد میں آنے والے علماء کی اکثریت نے ، جو انہی سابقہ علماء کے مکاتب فکر کے زیر سایہ پروان چڑھی تھی ، اس نہایت خطرناک غیر اسلامی نظریہ کو بغیر کسی تحقیق اور تنقید کے قبول کر لیا۔