اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 68

68 یعنی ان دونوں حدیثوں کی سند ضعیف۔اسی طرح علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے بھی اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔إِسْنَادُهُمَا ضَعِيفَان“ ( التعليق المغنى على الدار قطنى القاهرة (مصر) دار المحاسن للطباعة ١٩٦٦ء جزء ثالث جلد دوم کتاب الحدود والديات۔حديث نمبر ۱۲۲ صفحه: ۱۱۹) یعنی قابل اعتبار نہیں۔جب قرآن سے کچھ نہیں ملا۔جب صحیح قابل اعتماد حدیثوں سے کچھ نہیں ملا تو قتل کرنے کا ایسا جوش ہے کہ ایک حدیث جس کے متعلق اکثر جید علماء کہہ رہے ہیں کہ یہ ضعیف ہے اور قابل اعتبار نہیں ہے اسکا سہارا ڈھونڈھ کر قتل ضرور کرنا چاہتے ہیں۔تیسری روایت ایک اور حدیث مودودی صاحب نے پیش کی ہے کہ : حضرت ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا حاکم مقرر کر کے بھیجا۔پھر اس کے بعد معاذ بن جبل کو ان کے معاون کی حیثیت سے روانہ کیا۔جب معاذ وہاں پہنچے تو انہوں نے اعلان کیا کہ لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول کا فرستادہ ہوں۔ابو موسیٰ نے ان کے لئے تکیہ رکھا تا کہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھیں۔اتنے میں ایک شخص پیش ہوا جو پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا پھر یہودی ہو گیا تھا معاذ نے کہا: میں ہرگز نہ بیٹھوں گا جب تک یہ شخص قتل نہ کر دیا جائے۔اللہ اور اس کے رسول کا یہی