اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 67

67 تمہیں صاف کہہ دیتا کہ اٹھو اور اس کو مار دو۔میں تو یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا بات تھی جو تمہیں روک رہی تھی کہ میرے ایک فیصلہ کا علم ہونے کے باوجود تم نے اس کے قتل سے اپنے ہاتھ روک لئے۔سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کریم کا واضح حکم ہوتا کہ مرتد کی سزا قتل ہے تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدود میں رعایت کرنے والے تھے؟ ہرگز نہیں۔ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کے متعلق یہ سوچا نہیں جا سکتا کہ قرآن کی عائد کردہ حدود سے ادنیٰ سا بھی تجاوز فرماتے۔زمین و آسمان ٹل جائیں لیکن ایسا ممکن نہیں۔دوسری روایت مولانا مودودی صاحب نے اپنی کتاب میں ایک اور حدیث کا بھی ذکر کیا ہے جس سے وہ قتل مرتد کا استنباط کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ : ایک عورت اُتم رومان ( یا اتم مروان) نامی مرتد ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے سامنے پھر اسلام پیش کیا جائے۔پھر وہ تو بہ کر لے تو بہتر ، ورنہ قتل کر دی جائے۔( دار قطنی۔بیہقی) بیہقی کی دوسری روایت اس سلسلے میں یہ ہے کہ فَابَتْ أَنْ تُسْلِمَ فَقُتِلَتْ اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اس بنا پر قتل کر دی گئی۔“ ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں صفحہ ۱۷) مگر نیل الاوطار میں امام محمد بن علی الشوکانی ان روایات کے بارہ میں فرماتے ہیں: قَالَ الْحَافِظُ : إِسْنَادُ هُمَا ضَعِيفَان ( نيل الأوطار شرح منتقى الاخبار من احاديث سيد الاخيار۔لمحمد بن على الشوكاني مصر۔شركة مصطفى البابي الحلبى احكام الردة والاسلام باب قتل المرتد جزء هفتم صفحه ۲۱۸) -