اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 35

35 قدیم مفسرین کی آراء اس ضمن میں اور بھی قرآن کریم کی آیات اور دلائل ہیں مگر چونکہ آجکل کے علماء قرآن سے بہت زیادہ قرون وسطی کے فقہاء اور علماء کے فتووں کے قائل ہیں اس لئے میں باقی آیات کے بیان کو چھوڑتا ہوں اور چند تفاسیر کے فیصلے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔(۱) تفسیر روح البیان میں لکھا ہے: فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ بِقَمْعِ الْهَوى، لِاَنَّ الْهَوَى هُوَ حَيَاةُ النَّفْسِ، وَارْجِعُوا بِالْاِسْتِنْصَارِ عَلَى قَتْلِ النَّفْسِ بِنَهْيِهَا عَنْ هَوَاهَا فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ بِنَصْرِ اللَّهِ وَ عَوْنِهِ۔۔۔﴿ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ ، يَعْنِي: قَتْلُ النَّفْسِ بِسَيْفِ الصِّدْقِ خَيْرٌ لَّكُمْ، لَانَّ بِكُلِّ قَتْلَةٍ رِفْعَةً وَ دَرَجَةً لَكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ، فَأَنْتُمْ تَتَقَرَّبُونَ إِلَى اللَّهِ بِقَتْلِ النَّفْسِ وَ قَمُعِ الْهَوَى، وَهُوَ يَتَقَرَّبُ إِلَيْكُمُ بِالتَّوْفِيقِ لِلتَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ عَلَيْكُمْ۔۔۔۔۔وَ ذَلِكَ قَوْلُهُ: ﴿فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَابُ الرَّحِيمُ (شيخ اسماعيل حقى البروسى تفسير روح البيان۔سورة البقرة آيت: و اذ قال موسى لقومه يقوم انكم ظلمتم انفسكم باتخاذكم العجل۔۔۔۔۔۔الخ) کہ جب قرآن فرماتا ہے کہ اپنے نفسوں کو قتل کرو تو مراد ہے کہ اپنی ہوا و ہوس کو قتل کرو۔گندی تمناؤں کو کچلو۔کیونکہ ہوا و ہوس ہی نفس کی جان ہیں۔یہ