اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 18

18 الْاِرْتِدَادُ وَالرِّدَّةُ : الرُّجُوعُ فِي الطَّرِيقِ الَّذِي جَاءَ مِنْهُ، لَكِنِ الرِّدَّةَ تُخْتَصُّ بِالْكُفْرِ، وَالارْتِدَادُ يُسْتَعْمَلُ فِيهِ وَ فِي غَيْرِهِ - قَالَ تَعَالَى : ﴿إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ وَ قَالَ: ﴿يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ۔وَ هُوَ الرَّجُوعُ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَى الْكُفْرِ۔“ 66 ( المفردات لامام حسین بن محمد المعروف بالراغب الاصفهانی۔زیر لفظ: ”رد) یعنی: ارتداد اور ردَّة کے معنی ہیں اس راستے کی طرف واپس چلے جانا جس راستے سے کوئی آیا ہو ، لیکن ردة کا لفظ کفر کی طرف واپس جانے سے مختص ہے۔اور ارتداد کا لفظ کفر کی طرف لوٹنے یا کسی اور امر کی طرف لوٹنے کے لئے مشترک ہے۔جیسے قرآن کریم میں فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ نیز فرمایا: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ۔یہ دوسری آیت اسلام سے کفر کی طرف لوٹنے کے معنوں میں آئی ہے۔عظیم حکمت الہی ارتداد ایک ایسا لفظ ہے جو محض لازم استعمال ہوتا ہے اور متعدی استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔یعنی مرتد صرف اس کو کہتے ہیں جو خود اعلان کرے کہ میں باہر جا رہا ہوں۔عربی قواعد کی رو سے یہ اجازت ہی نہیں کہ کوئی دوسرا اسکو مرتد کہہ کر باہر نکال دے۔مرتد کی اپنی مرضی اس میں شامل ہے۔ایسا حیرت انگیز لفظ خدا تعالیٰ نے چنا ہے، ارتداد کے اظہار کے لئے کہ دوسرے کے دخل سے ہر مسلمان کو آزاد کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے بھی ایسی ہی تعریف فرمائی فرمایا :