اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 13

13 مرزا غلام احمد قادیانی کے کذب کا اقرار بھی کرے اور آپ کی نبوت کا کھلم کھلا انکار کرے۔جب تک وہ اس تعریف کے مطابق مسلمان نہیں بنتاوہ مسلمان نہیں کہلا سکتا۔درخواست برائے رجسٹریشن۔زیر دفعہ ۴ (۱) (الف) نیشنل رجسٹریشن ایکٹ۔فارم الف شائع کردہ حکومت پاکستان ڈائریکٹوریٹ جنرل آف رجسٹریشن (وزارت داخلہ) اس تعریف میں جو نیا دروازہ کھولا گیا ہے اس کے بہت سے بدنتائج نکلے بھی ہیں اور آئندہ بھی نکلیں گے۔لیکن بنیادی طور پر اس تعریف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ تعریف تو زمانے سے آزاد ہوا کرتی ہے۔تعریف جغرافیائی قیود سے آزاد ہوا کرتی ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ اسلام کی جو تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے پر اطلاق نہیں پاسکتی وہ آج درست تعریف کے طور پر قبول کر لی جائے۔صرف وہی تعریف قابل قبول ہو گی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ پر اطلاق پائے اور پھر ہر زمانہ پر اطلاق پاتی چلی جائے۔ایک لمحہ بھی ایسا نہ گزرے جس میں وہ تعریف ناکارہ ثابت ہو جائے۔اور صرف پاکستان ہی میں اس کا اطلاق نہ ہو بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ، مشرق کا ہو یا مغرب کا، شمال کا ہو یا جنوب کا، وہ تعریف بعینہ اسی طرح صادق آتی چلی جائے۔مگر یہ ایک عجیب تعریف ہے جس کا ۱۹۷۴ء سے پہلے اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے پر بھی اطلاق نہیں ہوسکتا، کیونکہ بکثرت ایسے احمدی فوت ہو گئے جو اس تعریف کے بننے سے پہلے مسلمان کہلاتے ہوئے اس دنیا سے چلے گئے اور چونکہ یہ تعریف موجود نہیں تھی اور کسی کا تصور اس تعریف کی طرف نہیں گیا تھا اس لئے اس تعریف کی رو سے وہ مسلمان ہی تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے کے مسلمانوں کا کیا کہو گے -