اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 131

131 کے سردار تھے۔یہی ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے اور یہی قرآن سے ثابت ہے اور یہی سنت سے ثابت ہے۔صرف دعوی نہیں بلکہ ہم اس کی دلیل رکھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہی الزام لگا اور بعینہ اسی طرح آپ کو قوم کی طرف سے مخاطب کیا گیا اور کہا گیا کہ تو اپنے دین سے پھر گیا ہے اور اس کی لازماً سزا ملنی چاہئے۔نہ صرف خود پھر گیا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے دین سے پھرا رہا ہے۔تیرا پھر نا تو کسی حد تک برداشت ہو سکتا تھا ، مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم یہ برداشت کرتے چلے جائیں کہ تو مسلسل اپنے دین کی تبلیغ کرتا رہے اور دوسروں کو بھی اپنا ہم خیال بناتا رہے؟ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی مہذب قوم اس کی اجازت نہیں دے سکتی تھی، جیسا کہ آج پاکستان کی مہذب قوم کا خیال ہے۔قوم کے جابر سربراہوں کا کہنا چاہئے کیونکہ قوم تو بڑی حد تک اس سے بری الذمہ ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ اے محمد ! تیرے متعلق بھی وہ جو کچھ ارادے رکھتے ہیں وہ میں تجھے بتا تا ہوں۔وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ الله وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ (الانفال: ۳۱ ) ایک وہ وقت بھی تو تھا جب کہ یہ کفار تیرے خلاف طرح طرح کے مکر کر رہے تھے اور ان مکروں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ یا تو تجھے قید کر دیں یا تجھے قتل کر دیں یا تجھے اپنی بستی سے نکال دیں۔گویا انبیاء کے دشمنوں نے جو تدبیریں سوچی تھیں وہ ساری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے بھی سوچیں اور آپ کے خلاف ان کو استعمال کرنے