اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 124
124 کچھ مٹی پیدا کرتی ہے اسے جلا کر خاکستر کر دے۔پس انسانوں میں باہمی دشمنی پیدا کرنے والے دراصل شیطان ہی کی خصلت رکھتے ہیں۔حضرت لوط پر ارتداد کی تہمت حضرت لوط کے متعلق بھی ان کی قوم نے یہی طرز اختیار کیا اور آپ کو بھی ارتداد کے جرم کا سزاوار قرار دیا۔قَالُوا لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يَلُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ ، رَبِّ نَجِنِي وَأَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ (الشعراء : ۱۶۸ تا ۱۷۰) انہوں نے ایک اور سزا تجویز کی۔کہا اگر تو ارتداد سے باز نہ آیا تو ہم تجھے وطن سے نکال دیں گے۔انہوں نے کہا: تم نے جو کرنا ہے کر لو۔میں تو تمہارے عمل سے بیزار بیٹھا ہوں۔تھک چکا ہوں تمہارے گند کو دیکھ دیکھ کر۔تم سے مجھے رحم کی کوئی توقع نہیں نے۔پھر معاً آپ کا ذہن خدا کی طرف منتقل ہوا اور یہ عرض کی : اے میرے رب! مجھے اور میرے اہل کو ان سب حرکتوں سے نجات بخش جو وہ کرتے ہیں۔حضرت صالح" مرتد کہلائے حضرت صالح" کے ساتھ بھی ان کی قوم نے یہی سلوک کیا۔اور یہی بحث جاری تھی کہ ملت سے منہ موڑنے والے اور ارتداد اختیار کرنے والے کو کوئی سزاملنی بھی چاہئے کہ نہیں؟ قَالُوا تَقَاسَمُوْا بِاللَّهِ لَنُبَيْتَنَهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ تَنْقُولَنَّ لِوَلِيْهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَ إِنَّا لَطيقُونَ (النمل :۵۰)