اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 100
100 تیسرے حصہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص نہ صرف مرتد ہو بلکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خلاف جنگ کرے۔ایسی صورت میں یا اسے قتل کیا جائے یا صلیب دے کر مارا جائے یا اسے ملک سے نکال دیا جائے۔اب یہ تینوں متضاد باتیں ہیں ورنہ اگر محض ارتداد کی سزا قتل ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لازم تھا کہ اسے قتل کروادیتے۔دوسرے جہاں تک صلیب دینے کا تعلق ہے کہیں ثابت نہیں کہ آنحضور نے کسی کو صلیب دے کر مروایا ہو۔علاوہ ازیں ملک بدر کرنے کا ، آنحضور کیسے استعمال فرماتے جبکہ قرآن کی صریح حد یہ تھی کہ اسے لا ز ما قتل کیا جائے۔اس لئے یہ حدیث ان سارے پہلوؤں سے غور طلب ہے۔اگر چہ الفاظ درست ہو سکتے ہیں لیکن ان کے معانی پر غور اور تدبر کرنے پڑے گا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل یا قول قرآن کے منافی نہ سمجھا جائے۔آنحضرت تو معروف مرتدین کو قتل کروانے کی بجائے ان کی بخشش کی دعا مانگا کرتے تھے اور قتل مرتد کا عقیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا آپ کی صریح گستاخی ہے۔اس ضمنی مگر ضروری بحث کے بعد ہم پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیان فرمودہ روایت کی طرف واپس لوٹتے ہیں جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہاں قتل سے مراد ہرگز جسمانی قتل نہیں ورنہ ہر وہ شخص جو یہ خواہش ظاہر کرے کہ اسے امیر بنا دیا جائے اس کا قتل واجب ہو جاتا۔حالانکہ کسی ایک شخص کو بھی حضرت عمرؓ نے اس لئے قتل نہیں کروایا کہ کہ اس نے امارت کی خواہش کی ہو بلکہ ایسے مطالبہ کو کالعدم سمجھا گیا اور فَاقْتُلُوہ سے صرف یہی مراد ہے کہ اس کے مطالبہ کو کالعدم کی طرح چھوڑ دو۔