اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page ix
viii اس ناپاک عقیدہ کے نہایت خوفناک نتائج نکلے۔یہاں تک کہ علماء اسلام کو محض معمولی اختلافات پر خود علماء اسلام نے مرتد قرار دیا اور حکام اور صاحب نفوذ علماء نے اس ہتھیار کو اپنے مخالفین کے خلاف خوب خوب استعمال کیا۔تاریخ اسلام کے یہ نہایت دردناک ابواب سپین میں عیسائی حکومتوں کی یاد دلاتے ہیں جب اسی قسم کے نظریات کے قائل عیسائیوں نے خود اپنے عیسائی بھائیوں کو معمولی اختلافات پر نہایت وحشت ناک سزائیں دیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس تاریک دور کے واقعات کی تفصیل میں جانے کی بجائے اس ناپاک اور فاسد عقیدہ کا ہر پہلو سے تجزیہ کیا ہے اور قرآن کریم، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ کے تاریخی واقعات کی روشنی میں اس عقیدہ کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام کے نہایت حسین چہرے کو داغدار کرنے کی ناپاک کوشش اس بھیا نک نظریے کے ذریعہ کی گئی۔چنانچہ یہ فاسد نظر یہ ہی وہ سب سے خطرناک ہتھیار تھا جسے دشمنان اسلام نے سب سے بڑھ کر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ان حقائق پر مشتمل یہ عظیم خطاب حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر بتاریخ ۲۷ جولائی ۱۹۸۶ء بمقام اسلام آباد ٹلفور ڈسرے ارشاد فرمایا۔امید ہے یہ خطاب غیر متعصب محققین کو اسلام کی صحیح اور پاک تعلیمات کو بہتر رنگ میں سمجھنے میں مدد دے گا اور اسلام کے دفاع کے لئے ، خصوصاً اس میدان میں ، ان کے اندر نئی روح پھونک دے گا۔انشاء اللہ العزیز۔یادر ہے کہ اس خطاب کو کتابی صورت میں ڈھالتے وقت حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ نے بعض مناسب ترامیم اور مفید اضافے فرمائے تھے۔الناشر