اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 59
59 کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور پھر کفر پر ہی مر گئے۔( یہ نہیں فرمایا قُتِلُوا وَهُمُ كُفَّار کہ پھر وہ قتل کر دئے گئے اس حالت میں کہ وہ کافر تھے بلکہ فرمایا پھر وہ طبعی موت مر گئے اور وہ کفار ہی تھے۔فرمایا) فَلَنْ تُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِّلُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِه اس محاورہ نے اس مضمون کو کھول دیا ہے کیونکہ یہاں اس دنیا میں بندوں کا ان سے تو بہ قبول کرنے کا بھی کوئی ذکر نہیں اور ایسے لوگ چونکہ کفر کی حالت میں جان دے رہے ہیں اس لئے قیامت کے روز بھی کوئی سودا بازی نہیں ہو سکتی اور اس دن زمین کے برابر سونا یا دیگر اشیاء بھی ان سے قبول نہیں کی جائیں گی۔اور ایسے لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے اور ان کے لئے کوئی مددگار نہیں۔پانچویں آیت فرمایا۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَسِرِينَ) (ال عمران:۱۵۰) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم ان لوگوں کی پیروی کرو گے جنہوں نے کفر کیا تو وہ تمہیں تمہاری ایڑھیوں کے بل پھر ا دیں گے یعنی تمہیں تمہارے دین سے ہٹا کر پھر کفر میں دھکیل دیں گے۔پھر تم گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔یہاں یہ نہیں فرمایا فَتَنْقَلِبُوا مَقْتُولِینَ“ کہ اگر تم نے ارتداد اختیار کیا تو تم قتل کر دئے جاؤ گے۔اگر ارتداد کی سزا قتل تھی تو یہاں اسکا ذکر ہونا چاہئے تھا۔