اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 123

123 قرار دیتا ہے) اسے کہا کہ کیا تو میرے معبودوں سے پھر چکا ہے؟ اے ابراہیم ! اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کرونگا۔اور بہتر ہے کہ سر دست کچھ دیر کے لئے تو میری نظروں سے اوجھل ہو جاتا کہ میرا غضب کچھ ٹھنڈا ہو جائے۔پھر اسی آواز کو حضرت ابرا ہیم کے باپ کی قوم نے بھی اختیار کر لیا اور ارتداد کی سزا کا ایک اور طریقہ ایجا دکیا۔انہوں نے کہا: قَالُوا حَرِقُوْهُ وَانْصُرُوا الهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ۔قُلْنَا ينَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَهِيْمَنَ وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَخْرِيْنَ ) (الانبياء : ۶۹ (۷۱) جب باپ نے سنگسار کرنے کا کہا تو قوم کو تو شہہ مل گئی۔اگر باپ ارتداد کے جرم میں بیٹے کو یہ سزا دے سکتا ہے کہ اسے سنگسار کرا دے تو قوم نے تو ایک قدم آگے جانا ہی تھا۔قرآن فرماتا ہے کہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ اسے زندہ آگ میں جلا دو اور اس طرح اپنے معبودوں کی مدد کرو۔اگر کچھ کرنا ہی ہے تو یہ کر گز رو ورنہ تمہارا دین خراب ہو جائے گا۔مگر ارتداد کی سزا قتل قرار دینے والوں کا حکم نہیں چلنا تھا۔خدا فرماتا ہے کہ آگ پر حکم میرا چلنا تھا کیونکہ آگ میری تخلیق ہے۔میں نے اس آگ کو حکم دیا: يُنَارُ كُونِى بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ کہ اے آگ ! میرے ابراہیم پر ٹھنڈی پڑ جا اور اس کے لئے امن کا ذریعہ بن جا اور سکینت کا ذریعہ بن جا۔مقام عبرت اس طرز کلام سے انسان کو عبرت حاصل کرنی چاہئے۔انسان تو مٹی سے پیدا کیا گیا جونمو کا جو ہر رکھتی ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا یعنی مٹی کے برعکس جو