اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 36 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 36

۳۶ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوسکتا۔۶۔کلالہ کی میراث کے بارے میں سوال اور جواب عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْفِيكَ مِنْ ذَالِكَ الْآيَةُ الَّتِى أُنْزِلَتْ فِي الصَّيْفِ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ (موطا امام مالک باب الفرائض صفحه ۶۵۱) زید بن اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کلالہ کی میراث کے بارہ میں دریافت کیا آپ نے فرمایا سورۃ نساء کی آخری آیت جو کہ گرمیوں میں نازل ہوئی ہے تیرے لئے کافی ہے۔نوٹ : کلالہ کی میراث کے بارہ میں دو آیات نازل ہوئی ہیں۔پہلی آیت تو (سورۃ نساء آیت ۱۳) وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَللَةٌ والی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کلالہ ( مرد یا عورت ) فوت ہو جائے اور والدہ کی طرف سے اس کا ایک بھائی یا بہن ( یعنی اخیافی بھائی یا بہن ) ہو تو اسے چھٹا (۱/۶) حصے ملے گا۔اگر زیادہ ہوں تو یہ سب (اخیافی بہن بھائی) ایک تہائی (۱/۳) میں برابر کے شریک ہوں گے۔دوسری آیت يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيُكُمُ فِي الْكَللَةِ الخ (نساء: ۱۷۷) ہے۔جو گرمیوں میں نازل ہوئی تھی۔یہاں اس کلالہ کا ذکر ہے جس کے حقیقی ( مینی ) یا علاقی (باپ کی طرف سے ) بھائی بہن موجود ہوں۔اسی لئے انہیں باپ کا حصہ دیا گیا ہے اور وہ آپس میں عصبہ بن جاتے ہیں کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص مر جائے کہ اس کے اولاد نہ ہو اور اسکی ایک بہن ہو تو جو کچھ اس نے چھوڑا ہو اس کا نصف (۱/۲) اس بہن کا ہوگا۔اور اگر وہ بہن مر جائے اس کے اولاد نہ ہو اور اس لے ایک ہی مذہب کے مختلف فرقے کے پیروکار ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں۔