اسلام کا وراثتی نظام — Page 24
۲۴ ہے مثلاً اگر وہ چاہے تو کچھ روپیہ غرباء کی بہبودی کے لئے وقف کر دے اور اُس 66 کی اپنے رشتہ داروں کو تاکید کر جائے۔“ اسی طرح صفحہ ۳۶۸ پر حضور فرماتے ہیں :- اگر کوئی شخص وصیت کرے اور بعد میں کوئی دوسرا شخص اس میں تغیر و تبدل کر دے تو اس صورت میں تمام تر گناہ اس شخص کی گردن پر ہو گا جس نے وصیت میں ترمیم و تنسیخ کی۔یہ تغیر دوصورتوں میں ہوسکتا ہے ایک تو یہ کہ لکھانے والا تو کچھ اور لکھائے اور لکھنے والا شرارت سے کچھ اور لکھ دے یعنی لکھوانے والے کی موجودگی میں ہی اُس کے سامنے تغیر و تبدل کر دے دوسری صورت یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد اُس میں تغیر و تبدل کر دے یعنی وصیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کے مطابق عمل نہ کرے بلکہ اُس کے خلاف چلے۔ان دونوں صورتوں میں اس طرح گناہ کا وبال صرف اُسی پر ہوگا جو اُسے بدل دے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس میں کسی قرآنی حکم کی طرف اشارہ ہے اور وہ حکم وراثت کا ہی ہے ورنہ اس کا کیا مطلب کہ بدلنے کا گناہ بدلنے والوں پر ہوگا وصیت کرنے والے پر نہیں ہوگا۔کیونکہ اگر اس وصیت کی تفصیلات شرعی نہیں تو بدلنے والے کو گناہ کیوں ہو۔اس کے گناہ گار ہونے کا سوال تبھی ہو سکتا ہے جب کہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔اور وہ اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مرنے والا تو یہ وصیت کر جائے کہ میری جائیداد احکام اسلام کے مطابق تقسیم کی جائے ، لیکن وارث اس کی وصیت پر عمل نہ کریں ایسی صورت میں وصیت کرنے والا تو گناہ سے بچ جائے گا، لیکن وصیت تبدیل کرنے والے وارث گناہ گار قرار پائیں گے۔66 حضرت المصلح الموعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کی رقم فرمودہ تفسیر سے یہ بات بالکل ظاہر ہو جاتی ہے کہ یہ آیات اُن احکام وراثت پر ( جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے تھے ) عمل کرنے کے بارہ میں ہیں اور اس کی بڑی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔