اسلام کا وراثتی نظام — Page 23
۲۳ کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔در حقیقت یہاں وصیت کا لفظ صرف عام تاکید کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے والدین اور اقربین کے متعلق تو وصیت کرنے کا حکم دیا ہے۔مگر اولا د کو ترک کر دیا ہے۔حالانکہ قلبی تعلق کے لحاظ سے اولا د کا ذکر بھی ضرور ہونا چاہئے تھا۔یہ بات بتاتی ہے کہ یہاں مال کی تقسیم کا مسئلہ بیان نہیں کیا جا رہا۔بلکہ ایک عام تاکید کی جارہی ہے اور اولاد کی بجائے والدین اور اقربین کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق بتا رہا ہے کہ یہ حکم جنگ اور اس کے مشابہ دوسرے حالات کے متعلق ہے چنانچہ اس سے چند آیات پہلے وَالصَّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَ حِيْنَ الْبَأْسِ میں لڑائی کا ذکر آچکا ہے۔اس طرح آگے چل کر وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ میں پھر جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور چونکہ جنگ میں بالعموم نو جوان شامل ہوتے ہیں جن کے ہاں یا تو اولاد ہوتی ہی نہیں یا چھوٹی عمر کی ہوتی ہے۔اس لئے والدین اور اقر بین کے حق میں وصیت کرنے کا حکم دیا اور اولاد کا ذکر چھوڑ دیا اور یہ ہدایت فرمائی کہ جب کسی شخص کی موت کا وقت قریب آجائے یا وہ کسی ایسے خطرناک مقام کی طرف جانے لگے جہاں جانے کا نتیجہ عام حالات میں موت ہوا کرتا ہے اور پھر اس کے پاس مال کثیر بھی ہو تو اسے چاہئے کہ وہ وصیت کر دے کہ اس کی جائیداد حکم الہیہ کے مطابق تقسیم کی جائے تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو اور یہ تاکید بجائے اس کے کہ کسی اور کو کی جائے۔اپنے رشتہ داروں کو کرے۔رہا یہ سوال کہ معروف کیا ہے؟ سو ایک تو احکامِ وراثت معروف ہیں ان پر عمل کرنے کی تاکید ہونی چاہئے۔دوسرے بعض حقوق ایسے ہیں جو احکام وراثت سے باہر ہیں اور جن کو قاعدہ میں تو بیان نہیں کیا گیا مگر مذہبی اور اخلاقی طور پر انہیں پسند کیا گیا ہے اور اُن کے لئے شریعت نے ۳ /۱ تک وصیت کر دینے کا دروازہ کھلا رکھا