اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 18 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 18

۱۸ > ۴۔حضرت علی مرتضی خلیفہ رابع رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۵۔حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۶۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کرام کے بعد تابعین نے بھی اس علم کو محنت سے سیکھا اور دوسروں کو سکھایا پھر ہمارے ائمہ اربعہ نے یعنی حضرت امام ابو حنیفہ ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور امام احمد نے سنت اور احادیث نبویہ اور اجماع امت کی روشنی میں نظامِ وراثت کے تمام مسائل کو کمال احسن بسط اور تفصیل سے منضبط کیا اور عامۃ الناس کی رہنمائی فرمائی۔حضرت امام ابو حنیفہ کے بعد اُن کے نہایت قابل ، ذہین شاگردان رشید حضرت امام ابو یوسف اور حضرت امام محمدؐ نے اس شعبہ علم میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔موجودہ دور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دور ہے اس لئے اس وقت ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اس علم کو خود سیکھیں اور دوسرے لوگوں کو سکھلائیں اور عملاً اسے اپنے درمیان رائج کریں اور کروائیں کیونکہ ایسا کرنے سے انسان جنت کا وارث بن جاتا ہے اور فلاح سے ہمکنار ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتا ہے۔تِلْكَ حُدُودُ اللهِ ۖ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ خَلِدِينَ فِيهَا طَ وَذَلِكَ الْفَوْزُ (سورة نساء آیت : ۱۴) الْعَظِيمه یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں انہیں وہ ان باغوں میں جن کے اندر نہریں بہتی ہوں گی داخل کرے گا اور وہ اُن میں رہتے چلے جائیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔