اسلام کا وراثتی نظام — Page 211
۲۱۱ گیا ہو۔اس بارہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ ایسا واقعہ جس میں ذوی الفروض کے حصوں کا مجموعہ اکائی سے بڑھ گیا ہو ایسا واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہی پیش آیا۔اور اس حدیث که مطابق فَعَلَيْكُمُ بِسُنَّتِى وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ( مشکوۃ باب الاعتصام بالكتاب والسنة ) تَمَسَّكُوابها - یعنی تم پر میری (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے تمہیں چاہئے کہ تم اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔“ پس یہی طریق درست اور واجب العمل ہے اگر کوئی شخص اس طریق سے متفق نہ ہو تو اسے چاہئے کہ کوئی اور اس سے بہتر طریق بتلائے ورنہ سید نا حضرت عمرؓ کے بتلائے ہوئے طریق کو اپنائے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور ادب اور سلامت روی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ برضا و رغبت خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کی جائے۔یہاں دو احادیث بھی درج کئے دیتا ہوں جن سے یہ پتہ لگتا ہے کہ سید نا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت عمرؓ کا کیا مقام ہے۔عَنْ أَبِي سَعِيدِ نِ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمُ قُمُصٌ مِنْهَا مَايَبْلُغُ الشَّدْيَ وَمِنْهَا (مَايُبْلُغُ) دُونَ ذَلِكَ وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ تَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا مَاذَا اَوَّلْتَ ذَالِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ الدِّينُ۔(صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابه ) ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز فرمایا میں سو رہا تھا کہ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا تمام لوگ میض پہنے ہوئے تھے ان میں سے بعض کی قمیض سینہ تک تھی اور بعض کی اس سے بھی کم پھر عمر بن خطاب میرے سامنے سے گزرے جو اپنی لمبی قمیض پہنے ہوئے تھے کہ اسے گھسیٹتے ہوئے چل رہے تھے صحابہ نے پوچھا اس خواب کی تعبیر آپ نے کیا لی ہے۔حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا میں نے لله