اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 9 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 9

لاہور σ ۱۵ر جولائی ۱۹۷۱ء ، مصنفہ پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب کا مجھے جستہ جستہ مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا ہے اور میں بلا تو قف یہ بات کہنے میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ اسلامی قانون کی ایک مشکل اور اہم شق کو فاضل مصنف نے جس محنت اور تندہی سے آسان اور عام فہم بنانے کی کوشش کی ہے وہ یقینا قابل تحسین ہے۔اسلامی قانون وراثت کے جملہ اصولوں کا وضاحت کے ساتھ بیان اور مثالوں کے ساتھ ان کی تشریحات اور سادہ اسلوب تحریر کے باعث متعلقہ اسلامی قانون کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔اسلام محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کا مدعی ہے اس لئے اس نے انسانی زندگی کے ہر قدم اور ہر موڑ کے لئے ایسے قانون وضع کر دیئے ہیں جو قوانین فطرت کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہیں اور جن میں ان انفرادی اور اجتماعی زندگی کے مختلف مدارج کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کی پوری طرح صلاحیت موجود ہے جن کا منتہائے مقصود ایک متوازن اور خوشحال معاشرہ کا قیام ہے جہاں انسانی اخوت اور مساوات کے بلند اصولوں پر عمل پیرائی زندگی کی کشمکشوں اور تلخیوں میں کمی پیدا کرتے ہوئے اسے خوشگوار بنا سکتی ہے۔اس کے اقتصادی اور معاشرتی نظام کا ایک لازمی جزو ہے اور اسی لئے وراثتی حقوق کی ترتیب میں بھی وہی انصاف ، توازن اور اعتدال کے اصول کارفرما ہیں جو ہر شعبہ زندگی میں اسلام کا طرہ امتیاز ہیں۔اسلامی قانون کی ہمہ گیری کا اندازہ کیجئے کہ یہ زندگی کے ہر گوشہ پر محیط ہے۔اسلام نے ہی سب سے پہلے آج سے چودہ سو سال پیشتر عورت کا حق وراثت قائم کیا جس کی تقلید تہذیب یافتہ مغربی ممالک اب ضروری قرار دے رہے ہیں۔پروفیسر غنی نے اپنی کتاب میں یہ بات بڑی خوبصورتی سے بتائی ہے کہ اسلام کا قانون وراثت بلاشبہ ایک علمی اور حسابی معجزہ ہے جس میں وراثت اور ترکہ کی تمام ممکنہ صورتوں کا حل موجود ہے اور اس ضمن میں کوئی ایسی گتھی نہیں جسے خوش اسلوبی کے ساتھ سلجھایا نہ جا سکے۔مجھے امید واثق ہے کہ یہ کتاب اپنی افادیت کے لحاظ سے قانوی حلقوں میں پوری طرح مقبول ہوگی۔سجاد احمد جان ( جسٹس ) سپریم کورٹ پاکستان