اسلام کا وراثتی نظام — Page 154
۱۵۴ درجہ سوم کے عصبات حقیقی بھائی ، حقیقی بھائی مع بہنیں ، علاقی بھائی ، علاقی بھائی مع بہنیں مثال نمبر ۲۲: ایک میت نے زوجہ والدہ اور دو بھائی وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ اور ان کی حیثیت لکھو۔١/٢ (بطور ذوی الفروض ) ۱/۴ (بطور ذوی الفروض ) = = == 0 - 1 = 1+1 -1=(↓ +±) − 1 - والدہ کا حصہ زوجہ کا حصہ باقی = یہ ۷/۱۲ حصہ دونوں بھائیوں میں جو عصبہ ہیں برابر برابر تقسیم ہوگا۔اس لئے ہر بھائی کا حصہ = ۲۴ = + x گویا اگر جائداد کے ۲۴ سہام کئے جائیں تو ۴ والدہ کے ، ۶ زوجہ کے اور سات ہر بھائی کے ہوں گے۔مثال نمبر ۲۳: ایک متوفی نے زوجہ ، چھ بھائی اور تین بہنیں وارث چھوڑے۔ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔بیوی کا حصہ باقی 1/8 ۳/۴ - ۱/۴ - ۱ = = یہ (۳/۴ حصہ ) چھ بھائیوں اور تین بہنوں میں بطور عصبہ تقسیم ہو گا۔دو حصے بھائی کے اور 11/12 = 1/16 × 1/1 ۳/۴ ۱۵ 1/12 = 1/15 × 1/1r ☑ = = ایک حصہ بہن کا۔اس لئے ہر بھائی کا حصہ ہر بہن کا حصہ یعنی اگر جائداد کے ہیں سہام کئے جائیں تو پانچ بیوی کے، دو ہر بھائی کے اور ایک ہر بہن کا ہوگا۔مثال نمبر ۲۴: ایک میت نے دو بیٹیاں، دو حقیقی بہنیں اور چار بھتیجے وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ