اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 130 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 130

اگر ذوی الفروض کم ہوں تو اولاد میں تقسیم کرنے کے لئے قدرے زیادہ تر کہ بیچ جاتا ہے۔لیکن ذوی الفروض زیادہ ہوں تو اولا د کو قدرے کم حصہ ملتا ہے۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے اپنے پیچھے دو زوجہ اور پانچ بیٹے چھوڑے دو بیٹے پہلی بیوی سے اور تین بیٹے دوسری بیوی سے ہیں اگر اس کا قابل تقسیم تر که بعد از ادائیگی قرضه و وصیت ۸۰۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔دو بیویوں کا حصہ اس لئے ایک بیوی کا حصہ باقی پانچ بیٹوں کا حصہ اسلئے ایک بیٹے کا حصہ ۸۰۰۰ روپے میں ہرایک بیوی کا حصہ 1/14 = = -1 = LA = = = ۷/۴۰ ۸۰۰۰ روپے میں ہر ایک بیٹے کا حصہ مثال نمبر ۳ : = ۸۰۰۰ × ۱/۱۲=۵۰۰ روپے ۸۰۰۰ × ۴۰/ ۷ = ۱۴۰۰ روپے ایک میت کے ۶ بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں بڑا بیٹا اس کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا اور اس نے اپنے دولڑ کے حمید اور رشید چھوڑے۔اگر میت نے ان کے علاوہ دو بیویاں اور والدہ اپنے ورثاء چھوڑے ہوں تو ہر ایک کا حصہ بتائیے جبکہ دادا نے اپنے یتیم پوتوں کے حق میں ۱/۶ حصہ کی وصیت کی ہوئی ہو۔حل : میت کے ورثاء میں سے زوجگان اور والدہ ذوی الفروض میں سے ہیں۔بیٹوں کی وجہ سے بیٹیاں عصبہ بالغیر ہیں۔بیٹوں کی وجہ سے پوتے محروم ہوتے ہیں، لیکن اس مثال میں وصیت کی وجہ سے ۱/۶ کے حقدار ہیں۔وصیت کردہ حصہ باقی جائداد 1/4 = - =