اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 94 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 94

۹۴ اس لئے اگر جائداد کے چھ حصے کئے جائیں تو ایک حصہ والدہ کا اور دو دو حصے دو پوتیوں کے ہوں گے۔مثال نمبر ۲۹ ایک میت نے مندرجہ ذیل ورثا چھوڑے۔ماں ، باپ، پوتی ، پڑپوتی ہر ایک کے حصے بتاؤ۔حل والدہ کا حصہ والد کا حصہ پوتی کا حصہ پڑپوتی کا حصہ = 1/4 1/4 1/4 یعنی جائداد کے اگر چھ سہام کئے جائیں تو والد کا ایک سہم والدہ کا ایک سہم پوتی کے تین سہام پڑپوتی کا ایک سہم ہوگا۔نوٹ : وراثت کا جو قاعدہ بیٹیوں اور پوتیوں میں ہے وہی بیٹیوں کے نہ موجود ہونے کی صورت میں اعلیٰ درجہ کی پوتیوں اور ادنے درجہ کی پوتیوں سے متعلق ہوگا۔اس مثال میں ہوتی صرف ایک ہے اس لئے پڑپوتی اس کی وجہ سے محجوب نہیں ہوئی اسے ۱/۶ ملا جیسا کہ ہوتی کو ایک بیٹی کے ہوتے ہوئے ۱/۶ ملتا ہے جو پوتی کے ۱/۲ کے ساتھ مل کر (7) + ) ہو جاتا ہے۔اور یہی بیٹیوں کے نہ ہونے کی صورت میں پوتیوں کا کامل حصہ ہے۔مثال نمبر ۳۰: ایک میت نے زوجہ ، والدین ، تین پوتے اور سات پوتیاں چھوڑیں اگر اس کا ترکہ قابل تقسیم ما بین ورثاء ۷۲۰۰ روپے ہو تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔= پوتیاں پوتوں کی وجہ سے عصبہ بالغیر بن جاتی ہیں اس لئے ذوی الفروض کو ادا کرنے کے بعد جو باقی بچے وہ ان میں ۲: ا کی نسبت ہوگا۔ذوی الفروض کے حصے:۔زوجہ کا حصہ والد کا حصہ والدہ کا حصہ 1/^= 1/4= 1/4= سراجیہ (۱۸) اس جگہ اگر دو پوتیاں ہوتی پڑپوتی بالکل محجوب ہو جاتی۔