اسلام کا وراثتی نظام — Page 153
۱۵۳ #= -۱ = باقی یہ (۱/۳) عصبات میں (جو یہاں پوتیاں، پڑپوتیاں اور پڑ پوتا ہیں ) تقسیم ہو گا۔= × = = اس لئے ہر پوتی کا حصہ ہر پڑپوتی کا حصہ پڑپوتے کا حصہ گویا اگر جائداد کے ۱۸ سہام کئے جائیں تو ہر بیٹی کو چھ ، ہر پوتی کو ایک ، ہر پڑپوتی کو ایک اور پڑپوتے کو دوسہام ملیں گے۔مثال نمبر ۲۰: درجہ دوم کے عصبات، باپ ( دادا، پڑدادا وغیرہ) اگر ایک میت کے صرف والدین ہی وارث ہوں تو والدہ کو ۱/۳ حصہ ملے گا اور باقی (۲/۳ حصہ ) باپ حاصل کرے گا۔مثال نمبر ۲۱: ایک میت نے ایک بیٹی اور والد وارث چھوڑے ہوں تو بیٹی ۱/۲ حصہ حاصل کرے گی اور والد بحیثیت ذوی الفروض ۱/۶ حصہ حاصل کرے گا۔اور جو باقی بچے گا وہ بھی بطور + + باقی (1) - ) = += + + + # = عصبہ حاصل کرے گا۔اس طرح والد کا حصہ نوٹ : مثال نمبر ۱۲۰ اور ۲۱ میں باپ کی بجائے جد صحیح کو تصور کیا جا سکتا ہے۔پس دادا وغیرہ کی وہی حیثیت ہوگی اور انہیں وہی حصہ ملے گا جو باپ کو مندرجہ بالا مثالوں میں ملنا تھا۔اگر وہ ( باپ ) زندہ ہوتا۔