اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 139 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 139

۱۳۹ V/C = = 1+2 −1 = ( ++ +-1 = ۲۴ زوجہ کا حصہ باقی ۱۴/۲۴ حصہ حقیقی بھائی بہنوں کو بطور عصبہ مل جائے گا۔( علاتی بھائی حقیقی بھائیوں کی وجہ سے محروم ہوں گے ) اس طرح کہ ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔اس لئے حقیقی بھائی کا حصہ = حقیقی ہمشیرہ کا حصہ = = ۲۴ گویا جائداد کے بارہ سہام کئے جائیں تو دو والدہ کے تین زوجہ کے، دو ہر بھائی کے اور ایک سہم ہر بہن کا ہوگا۔عصبہ درجہ سوم نمبر ۲ علاقی بھائی: جب درجہ اول و دوم میں سے کوئی بھی عصبہ موجود نہ ہو اور تیسرے درجہ میں حقیقی بھائی بھی موجود نہ ہو تو پھر علاتی بھائی بطور عصبہ وہ سب کچھ حاصل کرتا ہے۔جو حقیقی بھائی کو ملنا تھا۔علاقی بہن علاقی بھائی کے عصبہ بالغیر بن جائے گی۔علاقی بھائی حقیقی بھتیجا کو محروم کر دیتا ہے کیونکہ علاقی بھائی کی قوت قرابت زیادہ ہے بہ نسبت حقیقی بھتیجے کے۔عصبہ درجہ سوم نمبر ۳ حقیقی بھتیجا : جب میت کے حقیقی یا علاتی بھائیوں میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو اور نہ ہی درجہ اوّل یا دوم کا عصبہ موجود ہو تو بھیجا وہ تمام تر کہ حاصل کر لے گا جو ذوی الفروض کے حصے ادا کرنے کے بعد بچ جائے۔اگر حقیقی بھیجے دو یا دو سے زائد ہوں تو یہ تر کہ برابر برابر تقسیم کر لیں گے۔نوٹ : حنفی مسلک کی رو سے بھیجی / بھتیجیاں کو بھتیجوں کے ساتھ عصبہ با الغیر نہیں سمجھتے۔وہ بھتیجیوں کو ذوی الارحام میں شمار کرتے ہیں۔لہذا بھتیجی / بھتیجیوں کو بھتیجوں کی موجودگی میں وارث قرار نہیں دیتے۔یہ محروم رہتی ہیں۔جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ بھتیجی / بھتیجیاں ، بھتیجوں کی موجودگی میں عصبہ باالغیر بن جاتی ہیں۔لہذا ان میں بقیہ تر کہ ۲ : ۱ سے تقسیم کیا جائے گا۔