اسلام کا وراثتی نظام — Page 128
۱۲۸ اگر تمام عصبات ایک ہی درجہ کے اور ایک ہی جیسی قوت قرابت کے مالک ہوں اور ان کی جہات تعلق بھی یکساں ہوں تو پھر باقی ماندہ ترکہ ان سب میں برابر برابر تقسیم ہو گا۔مثلاً اگر کسی میت کے ایک بیٹے سے ۶ پوتے اور دوسرے بیٹے سے کے پوتے موجود ہوں (بیٹا کوئی نہ ہو ) تو پھر باقی ماندہ ترکہ کے ۱۳ حصے کر کے ان سب کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔یہ نہیں ہو گا کہ آدھا حصہ (باقی ماندہ ترکہ کا ایک بیٹے کے ۶ بیٹوں کو دیا جائے اور آدھا دوسرے بیٹے کے ساتھ لے بیٹوں میں تقسیم کیا جائے بلکہ باقی ماندہ تر کہ تیرہ پوتوں میں مساوی طور پر تقسیم ہوگا۔یاد رکھئے کہ اوپر کے درجہ کا عصبہ تمام نیچے درجے کے عصبات کو محروم کرے گا اور ایک ہی درجہ کے ورثاء (عصبات) کے لئے قوت قرابت دیکھئے جس عصبہ کی قوت قرابت زیادہ ہو اس کے سامنے باقی مساوی الدرجہ اور دوسرے کم درجہ والے تمام عصبات محروم رہیں گے۔اسی طرح اگر ایک ہی درجہ اور ایک جیسی قوت قرابت رکھنے والے ورثاء (عصبات ) ہوں تو پھر جہت قرابت دیکھئے جس کی جہت قرابت زیادہ ہو اس کے سامنے باقی مساوی الدرجہ اور مساوی قوت قرابت والے عصبات محروم ہوں گے۔اب ہر ایک درجہ کے عصبات کو علیحدہ علیحدہ مختصر سی تفصیل اور مثالوں سے بیان کیا جاتا ہے تاکہ عصبات کا معاملہ پوری طرح سے ذہن نشین ہو جائے۔درجہ اول کے عصبات عصبہ درجہ اوّل نمبرا بیٹا: بیٹا میت کا سب سے مقدم اور سب سے اہم عصبہ ہے یہ کسی دوسرے وارث کی موجودگی کی وجہ سے محروم نہیں ہو سکتا۔اس کے سامنے باقی تمام کم درجہ والے اور کم قوت قرابت والے عصبات محروم رہ جاتے ہیں۔اس کا کوئی خاص حصہ تو مقرر نہیں کیونکہ یہ ذوی الفروض میں داخل نہیں لیکن ذوی الفروض کو ان کے حصے ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ جاتا ہے وہ اسے مل جاتا ہے اور اگر کوئی بھی ذوی الفروض موجود نہ ہو تو پھر تمام تر کہ کا یہی وارث ہوتا ہے۔اگر میت کے دو یا دو سے زائد بیٹے ہوں تو بچا ہوا تر کہ تمام موجودہ بیٹے باہم برابر تقسیم