اسلام کا وراثتی نظام — Page 30
۔لڑکے اور لڑکی کے حصے میں نسبت يُوصِيكُمُ اللهُ فِي اَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (سورۃ النساء آیت ۱۲) اللہ تمہاری اولاد کے متعلق تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک مرد کا حصہ دوعورتوں کے حصہ کے برابر ہے (یعنی بیٹے کا حصہ بیٹی سے دگنا ہے) - اگر اولا دلڑ کیاں ہی لڑکیاں ہوں تو ان کا جائداد میں حصہ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَاتَرَكَ ۚ وَ إِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ (سورة نساء آیت (۱۲) اوراگر صرف لڑکیاں ہوں جو دو یا دو سے زیادہ ہوں تو اُن کے لئے جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہو اس کا دو تہائی (۲/۳) مقرر ہے اور اگر میت کی صرف ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے ترکہ کا نصف (۱/۲) مقرر ہے۔۔والدین یعنی ماں اور باپ کا حصہ الف- وَلَاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ (سورۃ نساء آیت ۱۲) اگر میت کی اولاد ہو تو اس کے ماں باپ کے لئے یعنی ان میں سے ہر ایک کے لئے اس ترکہ میں سے چھٹا (۱/۶) حصہ مقرر ہے۔فَإِنْ لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَّ وَرِثَةٌ آبَوهُ فَلْامِهِ القُلْتُ ( سورة نساء آیت ۱۲) اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تیسرا (۱/۳) حصر مقرر ہے۔(باقی کا ۲/۳ والد کو مل جائے گا) ج فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلُامِهِ السُّدُسُ اور اگر بھائی بہن موجود ہوں تو ماں کا حصہ ۱/۶ ہے۔