اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 25 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 25

۲۵ اسی اثناء میں حضرت اوس بن ثابت کا انتقال ہو گیا۔انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیوی اور تین بچیاں چھوڑیں۔حضرت اوس کے کار پردازوں نے زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق ان کی کل جائیداد ان کے چچازاد بھائیوں کے حوالہ کر دی۔اُن کی بیوی اور بچیاں محروم رہ گئیں۔حضرت اوس کی زوجہ محترمہ بہت گھبرائیں اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا واقعہ سنایا کہ کس طرح اوس کے چچازاد بھائیوں نے اُن کی تمام جائیداد پر قبضہ کر لیا ہے۔اور اب وہ خود اور اس کی بچیاں خالی ہاتھ رہ گئی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ معلوم ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ہی وراثت کے بارہ میں احکام نازل فرمائے گا اس لئے آپ نے انہیں تسلی دے کر صبر سے کام لینے کا ارشاد فرمایا نیز فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرو اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) خود بھی انتظار فرماتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ص لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوالِدان وَالْاَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوالِدان وَالْاَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَط نَصِيبًا مَّفْرُوضًاه (النساء : ٨) اور مردوں کا بھی اور عورتوں کا بھی اس مال میں سے جو اُن کے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں ایک حصہ ہے خواہ اس ترکہ میں سے تھوڑا بچا ہو یا بہت۔یہ ایک معین حصہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔“ چنانچہ اس آیت کے نزول سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ شریعت اسلامیہ نے جائیداد میں عورت کا حصہ مقرر کر دیا ہے، لیکن یہ کہ کتنا؟ اس کے لئے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم ) منتظر تھے۔اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اوس کے بھائیوں کو کہلا بھیجا کہ اوس کی جائیداد کو بحفاظت رکھیں اور خدا تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کریں۔اسی دوران میں ایک اور جلیل القدر صحابی حضرت سعد بن ربیج جنگ اُحد میں شہید ہو گئے اور ان کی جائیداد پر بھی حسب رواج اُن کے بھائیوں نے قبضہ کر لیا اور ان کی بیوی اور دو بچیاں بالکل محروم رہ گئیں ان کی زوجہ محترمہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں