اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 296 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 296

۲۹۶ سے حرج نہیں ہوا کرتا ورنہ اس طرح تو ہم سب آدم کی اولاد ہیں اور جس قدر سلاطین ہیں وہ بھی آدم کی اولاد ہیں تو ہم کو چاہئے کہ سب کی سلطنتوں سے حصہ بٹانے کی درخواست کریں۔چونکہ بیٹے کی نسبت سے آگے پوتے میں جا کر کمزوری ہو جاتی ہے اور آخر ایک حد پر آ کر تو برائے نام رہ جاتا ہے خدا تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اس طرح کمزوری نسل میں اور ناطہ میں ہو جاتی ہے اس لئے یہ قانون رکھا ہے ہاں ایسے سلوک اور رحم کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ایک اور قانون رکھا ہے جیسے قرآن شریف میں ہے۔واذا حضر القسمة اوالوالقربى واليتمى و المسكين فارزقوهم و قولو الهم قولا معروفاً ( ۱۲ ) ( یعنی جب ایسی تقسیم کے وقت بعض خویش و اقارب موجود ہوں اور یتیم اور مساکین تو ان کو کچھ دیا کرو) تو وہ پوتا جس کا باپ مر گیا ہے وہ یتیم ہونے کے لحاظ سے زیادہ مستحق اس رحم کا ہے اور یتیم میں اور لوگ بھی شامل ہیں۔(جن کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا) خدا تعالیٰ نے کسی کا حق ضائع نہیں کیا مگر جیسے جیسے رشتے میں کمزوری بڑھ جاتی ہے حق کم ہوتا جاتا ہے۔“ (البدر جلد اوّل نمبر ۱۰ مورخه ۲ /جنوری ۱۹۰۳ء بحوالہ ملفوظات جلد چہارم صفحه ۲۹۷، ۲۹۸)