اسلام کا وراثتی نظام — Page 295
۲۹۵ کر سکا ہو تو متصور کر لیا جائے کہ اس نے ۱/۳ کی وصیت کر دی نیز اگر اس نے کسی وصیت کے ذریعے سے اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں وغیرہ کے علاوہ کسی اور رشتہ دار کے حق میں وصیت کی ہو تو یہ وصیت ۱/۳ حصہ ترکہ کے اس مابقی کی حد تک پوری ہونی چاہئے۔جو یتیم پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی مقدم تر قانونی وصیت کے مطابق ان کا حق ادا کرنے کے بعد بیچ رہے۔“ ، ( المواریث الاسلامیہ دفعہ ۱۳۷۔۱۳۸ مولفه اطر کامل ۱۹۵۰ء) اسی قسم کا ایک سوال عرب صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا تھا جو مع جواب درج کر کے حضور علیہ السّلام کی عبارت پر ہی میں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں۔بیٹوں کی موجودگی میں پوتے کو محروم الارث قرار دینے کی وجہ عرب صاحب نے سوال کیا کہ ایک شخص نے مجھ پر اعتراض کیا تھا کہ شریعت اسلام میں پوتے کے واسطے کوئی حصہ وصیت میں نہیں ہے ایک شخص کا پوتا اگر یتیم ہے تو جب یہ شخص مرتا ہے تو اس کے دوسرے بیٹے حصہ لیتے ہیں اور اگر چہ وہ یتیم بھی اس کے بیٹے کی اولا د ہے مگر وہ محروم رہتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ” دادے کو اختیار ہے کہ وصیت کے وقت اپنے پوتے کو کچھ دے دیوے بلکہ جو چاہے دے دے اور باپ کے بعد وارث بیٹے قرار دیئے گئے ہیں۔تا کہ ترتیب بھی قائم رہے اور اگر اس طرح نہ کہا جاتا تو پھر ترتیب ہرگز قائم نہ رہتی کیونکہ پھر لازم آتا ہے کہ پوتے کا بیٹا بھی وارث ہو جاوے اور پھر آگے اس کے اولاد ہو تو وہ وارث ہو۔اس صورت میں دادے کا کیا گناہ ہے۔یہ خدا کا قانون ہے اور اس