اسلام کا وراثتی نظام — Page 286
۲۸۶ ان تین اسباب میں سے نسبی سبب یا تعلق سب سے زیادہ مؤثر اور قومی تسلیم کیا جاتا ہے۔اس میں سے جزئیت یعنی ولدیت کے تعلق کو بہت زیادہ مضبوط اور دائمی وراثت کا باعث سمجھا گیا ہے اور ترکہ کی تقسیم میں اس باب کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کسی رشتہ دار سے بلحاظ ذمہ دار جس نسبت سے نفع اور آرام میسر ہو اسی نسبت سے وراثت میں اس کا حق مقدم رکھا جائے۔سورۃ نساء آیت ۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْاقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْكَثُرَ نَصِيبًا مفروضاه یعنی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے اس ترکہ میں حصہ ہے جو اُن کے ماں باپ یا قریبی رشتہ دار چھوڑ کر فوت ہو گئے ہوں جائداد (ترکہ) قلیل ہو یا کثیر ہر دوصورت میں ہر ایک کا حصہ مقرر ہے گویا اس آیت میں وارث ہونے کے لئے دو وجوہ بیان کی گئی ہیں۔باپ بیٹے یا ماں بیٹے کا رشتہ جس کی طرف لفظ والدان اشارہ کرتا ہے۔قرابت کا رشتہ جس کی طرف لفظ اقربون توجہ دلاتا ہے۔لہذا جو رشتہ دار زیادہ قریبی ہو گا وہ ورثہ پائے گا۔اور دُور کے رشتہ دار کو محروم کر دے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پوتے کا تعلق کس رشتہ سے ہے پہلے سے یا دوسرے سے پھر اس کے مطابق اس سے سلوک کیا جائے گا یہ صاف ظاہر ہے اور اس نقطہ نظر کے تمام علماء اور فقہاء امت اس سے متفق ہیں کہ پوتے کے وارث ہونے کی بنیاد ” ولدیت پر ہے یعنی وہ اولاد کے زمرہ اور مفہوم میں شامل ہے اس لئے یتیم ہونے کی صورت میں بھی اپنے دادا کی جائداد کا وارث ہو گا۔کیونکہ وہ ( پوتا ) اپنے باپ کا جز ہے اور باپ اپنے باپ (دادا) کا حجز ہے اور جز کا جو بھی اصل کا جز ہی ہوتا ہے سو اسی بناء پر جب درمیانی جو نہ رہے یعنی پوتے کا والد فوت ہو جائے تو پھر یہ (ہوتا) دادا کے ترکہ کا بلا واسطہ وارث بن جاتا ہے۔اور اس آیت کے مطابق ترکہ کے حصہ کا حق دار ہے۔