اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 275 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 275

۲۷۵ خاوند کا حصہ = ۳/۸، والدہ کا حصہ ۱/۸ ، اخیافی بہن کا حصہ ۱/۸، اور علاقی حنفی کا حصہ = ۳/۸ یعنی عورت تصور کرنے سے اسے ۳/۸ حصہ ملتا ہے۔مرد تصور کرنے سے یہ خلفی علاتی بھائی بنتا ہے اور صرف ۱/۶ حاصل کرتا ہے۔±=( +)− کیونکہ اس صورت میں خاوند کا حصہ = ۱/۲، والدہ کا حصہ = ۱/۶، اخیافی بہن کا حصہ = ١/٢ ( خنٹی ) علاقی بھائی کا حصہ = باقی = 1 + + + + + ) = سو چونکه مرد تصور کرنے کی صورت میں خنثی کو نسبتا کم حصہ ملتا ہے اس لئے اسے مرد ہی تصور کیا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی میت صرف ایک نواسہ اور ایک خنثی نواسہ چھوڑے تو ہم اسے عورت تصور کریں گے کیونکہ اس طرح اسے جائداد کا ۱/۳ حصہ ملے گا۔اور نواسے کو ۲/۳ اگر خلفی کو مرد تصور کریں تو وہ آدھی جائداد کا وارث بن جائے گا۔چونکہ اسے عورت تصور کرنے میں ہی نسبتا کم حصہ ملتا ہے۔اس لئے اسے عورت تصور کریں گے۔مثال: خاوند = 1/5 اگر ایک میت خاوند سگی بہن اور ایک خنثی ( علاتی ) وارث چھوڑے تو ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔الف۔اگر خفی ( علاقی ) کو مرد تصور کریں گے ورثاء کے حصے یہ ہوں گے۔سکی بہن = ۱/۲ علاتی بھائی یعنی خلفی عصبہ ہو گا۔اس لئے محروم رہے گا ( کیونکہ جائداد ذوی الفروض میں ہی پوری ہوگئی ) اگر خنٹی کو عورت تصور کریں تو پھر وہ علاتی بہن بن جائے گا اور حقیقی ہمشیرہ کے ساتھ اس کا مقررہ حصہ ۱/۶ ہوگا۔اگر عول کی صورت بن جانے سے اس کا صحیح حصہ ۱۷ رہ جائے گا پھر بھی یہ حصہ پہلی صورت کے حصہ سے زیادہ ہے جس میں اسے کچھ بھی نہیں ملنا تھا۔لہذا اس مثال میں ہم اس خلفی کو مرد تصور کریں گے۔مثال نمبر ۲: اگر کسی میت کے وارث صرف اس کے چچا کی اولاد ہو جو ایک بیٹے اور ایک خلفی پر مشتمل ہے ہو تو ہر ایک وارث کا حصہ بتاؤ۔چا کا بیٹا عصبہ میں شامل ہے اور چچا کی بیٹی ذوی الارحام میں شامل ہے۔