اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 265 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 265

۲۶۵ دوسری شادی کی۔کچھ عرصہ بعد اس کی وفات ہو گئی۔اور یہ اپنی دوسری بیوی کو حاملہ چھوڑ گیا۔ورثاء نے تقسیم ترکہ کا مطالبہ کیا اور حمل کو لڑکا قرار دے کر تقسیم کر دی گئی بعد میں لڑکی پیدا ہوئی۔دونوں صورتوں میں ورثاء کے حصے بتائیے۔قبل از ولادت تقسیم دو بیویوں کا حصہ = ۱/۸ بعد از ولادت دختر تقسیم = دو بیویوں کا حصہ ہر ایک بیوی کا حصہ = ۱/۱۶ ہر ایک بیوی کا حصہ والدہ کا حصہ 1/4 = دو بیٹوں کا حصہ باقی = 1 - 1 ++) = والدہ کا حصہ ١/ 1/17 F/F 1/4 = = یہ ( ۱۷/۲۴) حمل ( بیٹے) اور بیٹی میں ۱:۲ باقی = 1 - ( + + + + )= سے تقسیم ہو گا۔پس حمل ( بیٹے ) کا محفوظ حصہ ۳۴ = Ex ۱۷ بیٹی کا حصہ = x = = ۲۴ ( بھائی اور بہنیں محروم ) مثال نمبر ۸ : ۱۷ ۲۴ جو متوفی کے بھائی کو جو عصبہ ہے ملے گا اور بہنیں محروم رہیں گی کیونکہ اُن کا شمار ذوی الارحام میں ہے۔ایک آدمی کی والدہ ، ہمشیرہ اور ایک زوجہ جس سے اولاد نہیں موجود ہیں۔اس نے دوسری شادی کی ، کچھ عرصہ بعد یہ اپنی دوسری بیوی کو حاملہ چھوڑ کر فوت ہو گیا۔ورثاء نے حمل کولر کا تصور کر کے ترکہ کی تقسیم کر لی۔بعد میں دولڑکیاں پیدا ہوئیں ہر دو صورتوں میں ورثاء کے حصے بتاؤ۔