اسلام کا وراثتی نظام — Page 19
۱۹ باب دوم اسلامی احکام وراثت کی ابتداء اور زمانہ جاہلیت کا ذکر حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے زمانہ کو جس میں انتہا درجہ کے شرک و کفر اور ظلم کا دور دورہ تھا۔زمانہ جاہلیت کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس زمانہ میں گمراہی اپنے عروج پر تھی۔طرح طرح کی بدرسوم، فسق و فجور ، لوٹ مار اور قتل و غارت جاری تھی۔انسان حیوانیت کے درجہ سے بھی نیچے جا گرا تھا۔غلامی کی رسم اپنے جو بن پر تھی اور غلاموں سے اس قسم کا ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا تھا جس کو پڑھ کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔عورتوں کو وہ انسان ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، ان سے نہایت بہیمانہ سلوک کیا جاتا تھا۔لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینا ان کا معمول تھا۔کمزور لوگ طاقت والوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم کا تخیہ مشق بنے رہتے تھے۔ظاہر ہے کہ گمراہی اور تاریکی کے ایسے عمیق اور گھناؤنے دور میں جب کہ زمین اپنے مکینوں (انسانوں) کے فساد سے اس قدر تنگ پڑ گئی وراثت کے منصفانہ اصول کیا ہوں گے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی قیاس ہوتا ہے کہ انسانی تمدن کی ابتداء ہی سے کچھ نہ کچھ اصول اور طریق ایسے ہوں گے جس کے مطابق مرنے والے کا ترکہ تقسیم کیا جاتا ہوگا۔جب اس نقطہ نگاہ سے ہم اوراق تاریخ کو پلٹتے ہیں تو ہمیں وراثت کے بارہ میں توریت میں یہ تقسیم نظر آتی ہے۔دو بنی اسرائیل سے کہہ کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اُس کا کوئی بیٹا نہ ہو تو اُس کی میراث اُس کی بیٹی کو دینا اگر اُس کی کوئی بیٹی بھی نہ ہو تو اس کے بھائیوں کو اُس کی میراث دینا اگر اُس کے بھائی بھی نہ ہوں تو تم اُس کی میراث اُس کے باپ کے بھائیوں کو دینا۔اگر اُس کے باپ کا بھی کوئی بھائی نہ ہو تو جو شخص اُس کے گھرانے میں اُس کا سب سے قریبی رشتہ دار