اسلام کا وراثتی نظام — Page 260
ہو جائے کہ حمل نہیں تھا یا اسقاط ہو جائے۔یا بچہ مردہ پیدا ہو تو اس صورت میں بھی محفوظ کیا گیا ترکہ ورثاء میں ان کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دیا جائے اب یہ تمام صورتیں مثالوں سے واضح کی جاتی ہیں۔مثال نمبر ا ایک میت نے والدہ ، چچا اور ایک زوجہ ( جو حاملہ ہے ) وارث چھوڑے ورثاء نے قبل از وضع حمل تقسیم ترکہ کی خواہش کی اور حمل کو لڑ کا تصور کر کے تقسیم کر دی گئی۔لیکن بعد میں لڑکی تولد ہوئی۔دونوں صورتوں میں ہر ایک وارث کا حصہ بتاؤ۔ولادت سے قبل تقسیم ترکہ بیٹی کی ولادت کے بعد تقسیم ترکہ = 1/4 = 1/F + - 1 = ۲۴ ۱۲+۴+۳ ۲۴ - 1 = زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ بیٹی کا حصہ = باقی ١/٨ = 1/4 = زوجہ کا حصہ والدہ کا حصہ 1 1/2 = 1 + 1 − 1 = ( + 1 + 1 ) − 1=3 ۲۴ ۱۷ / ۲۴ = ۲۴ لہذا حمل (لڑکے کا حصہ ) جو محفوظ رکھا گیا ( چا محروم ) جو چچا کو بطور عصبہ ملے گا۔۱۲/۲۴ حصہ اس طرح ۲۴ / ۱۷ حصہ جو حمل کے لئے محفوظ رکھ لیا تھا اس میں سے نوزائیدہ لڑکی کو ملا اور باقی ۵/۲۴ حصہ چانے حاصل کر لیا۔جو قبل از میں محروم رہ گیا تھا۔نوٹ : ولا دت کے بعد بظاہر تو یہ طریق عمل ہونا چاہیئے کہ صرف محفوظ کر دہ حصہ کو نو مولود اور موجودہ ورثاء میں تقسیم کیا جاتا ، لیکن اس طریق کو اختیار کرنے میں طول عمل کے علاوہ کئی الجھنیں پیدا ہوسکتی ہیں۔کیونکہ محفوظ حصہ میں سے نو مولود کا حصہ عموماً بڑے پیچیدہ جسمانی عمل سے ہی متعین کیا جا سکتا ہے۔مزید براں بعض ایسے رشتہ دار بھی جو وضع حمل سے قبل کی تقسیم میں محروم رہ گئے تھے۔واضح حمل کے بعد ورثاء میں شامل ہو سکتے ہیں۔اس لئے سہل ترین طریق جو عملاً اختیار کیا جاتا ہے یہی ہے کہ وضع حمل کے بعد جو رشتہ دار وارث قرار پائیں تمام تر کہ ان میں تقسیم کر دیا جائے اور پہلے حاصل کردہ حصوں اور بعد میں قائم شدہ حصوں