اسلام کا وراثتی نظام

by Other Authors

Page 240 of 306

اسلام کا وراثتی نظام — Page 240

۲۴۰ اور ہر لڑکی کا حصہ = = = 30 ۲۸۸ پس ماں اور باپ کی جائداد میں سے ہر لڑکے کا کل حصہ = + = اور ہر لڑکی کا کل حصہ ۴۷ ۱۴۴ ۱۴۴ ۴۷ + ۲۸۸ ۲۴ ۱۴۴۔تیسری میت لڑکی کا قابل تقسیم حصہ (۴۷/۲۸۸) ہے اور اس کے ورثاء خاوند ، دو بھائی اور ایک بہن کے درمیان تقسیم ہو گا۔اس لئے خاوند کا حصہ باقی ۴۷ = = ۵۷۶ ۱۴۴ ۴۷ = ۵۷۶ ۵۷۶ ۲۸۸ یه ۴۷/۵۷۶ حصہ دو حقیقی بھائیوں اور ایک حقیقی بہن میں ۲: اسے تقسیم ہوگا۔لہذا بہن کے ترکہ میں سے ہر حقیقی بھائی یعنی متوفی کے بیٹے کا حصہ R ۴۷ = ✗ ۱۴۴۰ ۵۷۶ ۴۷ = ۵۷۶ اور حقیقی بہن کا حصہ = ۴۷ = ۲۸۸۰ پس میت کے وارثوں کے آخری طور پر کل حصے مندرجہ ذیل ہوں گے۔زوجہ کی والدہ (خوش دامن ) کا حصہ ہر لڑکے کا حصہ موجودہ لڑکی کا حصہ ۱/۴۸ = ۵۱۷ ۴۷ ۴۷ = + = ۱۴۴۰ ۱۴۴۰ ۵۷۶ ۵۱۷ = + ۲۸۸۰ ۲۸۸۰ ۴۷ = متوفیہ لڑکی کے خاوند ( میت کے داماد) کا حصہ = یعنی اگر جائداد کے ۲۸۸۰ سہام کئے جائیں تو زوجہ کی والدہ کو ۶۰ ہر لڑکے کو ۱۰۳۴ زندہ لڑکی کو ۵۱۷ اور فوت شدہ لڑکی کے خاوند کو ۲۳۵ سہام ملیں گے۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے خاوند، والدہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی وارث چھوڑے قبل تقسیم ترکہ ایک بیٹا اپنی بیوی اور ایک بیٹی چھوڑ کر فوت ہو گیا۔متوفیہ کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ؟ متوفیہ کے ورثاء خاوند ، والدہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ابتدائی تقسیم خاوند کا حصہ والدہ کا حصہ 1/ = = 1/4