اسلام کا وراثتی نظام — Page 239
۲۳۹ جبکہ دوسرے متوفی کی وفات سے پہلے متوفی کے باقی ورثاء کے حصوں کی باہمی نسبت میں کچھ تبدیلی واقع نہ ہوتی ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے متوفی کی اولاد نہ ہو یا اس کے بھی وہی ورثاء ہوں جو اس کے علاوہ متوفی اوّل کے ورثاء تھے مثلاً اگر کسی متوفی کے تین بھائی وارث ہوں اور کوئی دوسرا رشتہ دار موجود نہ ہو جو ترکہ میں حصہ دار بن سکتا ہو اور ابھی یہ تینوں غیر شادی شدہ ہوں تو اگر تقسیم ترکہ سے پہلے کوئی بھائی فوت ہو جائے تو پہلے متوفی کا ترکہ باقی دو بھائیوں میں براہِ راست تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ایسی صورت میں مناسخہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔کیونکہ ورثاء موجودہ کے حصوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس سلسلہ میں مثال نمبر ۱۰ ملاحظہ فرمائیے۔مثال نمبر 1: ایک میت نے زوجہ، دولڑ کے اور دو لڑکیاں وارث چھوڑے۔زوجہ قبل تقسیم ترکہ اپنی مذکورہ اولاد اور اپنی والدہ چھوڑ کر فوت ہو گئی اور پھر ایک لڑکی اپنا شو ہر دو بھائی اور ایک بہن چھوڑ کر فوت ہوگئی پہلی میت کے ترکہ میں ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔پہلی میت کے ورثاء زوجہ، دولڑ کے اور دولڑکیاں ہیں۔ابتدائی تقسیم :۔زوجہ کا حصہ باقی ۱/ √/A = =-= یہ / حصہ دولڑکوں اور دولڑکیوں میں ۲: اسے تقسیم ہوگا۔اس لئے والد کے ترکہ میں سے ہر لڑکے کا حصہ اور ہرلڑکی کا حصہ 14117 = 4 × 14/1414 = = + x Λ = دوسری میت یعنی زوجہ کے ورثاء والدہ ، دولڑ کے اور دولڑ کیاں تھیں اور اس کا قابل 3/0 = = ۴۸ = تقسیم حصہ ۱/۸ تھا۔لہذا زوجہ کی والدہ کا حصہ باقی یہ ۴۸/ ۵ حصہ اس کے دولڑکوں اور دولڑکیوں میں ۲: ا سے تقسیم ہوگا۔اس لئے والدہ کے ترکہ میں سے ہر لڑکے کا حصہ = = ۱۴۴ ۴۸