اسلام کا وراثتی نظام — Page 216
1/4 ۲۱۶ = = پہلا طریقہ خاوند کا حصہ والدہ کا حصہ حقیقی بہن کا حصہ دوا خیافی بہنوں کا حصہ ++ + ++ = = ۲+۳+٣+١ = حصوں کا مجموعہ نسب نما کو شمار کنندہ (۹) کے برابر کرنے سے ورثاء کے حصے بالترتیب یہ ہوں گے ۱/۹، ۳/۹ اور ۲/۹ یعنی کل ۹ سہام میں سے تین خاوند کے، ایک والدہ کا تین حقیقی بہن کے اور ایک ہرا خیافی بہن کا ہوگا۔1/9 = = ورثاء کے حصوں کا تناسب ۲:۳:۱:۳ ٢:٣:١:٣ دوسرا طریقہ =+:+:+: += 9 = 1 + 1 + 1 + 1 = ٣/٩ والدہ کا حصہ ٣/٩ ۳/۹ دوا خیافی بہنوں کا حصہ = = 1/9 اور تناسبی مجموعہ اس لئے خاوند کا حصہ حقیقی بہن کا حصہ ہر ایک کا حصہ اس لئے ۹۰۰۰ روپے میں سے ۳۰۰۰ خاوند کو، ۱۰۰۰ والدہ کو ۳۰۰۰ حقیقی بہن کو اور ۱۰۰۰ روپے ہرا خیافی بہن کو ملے گا۔مثال نمبر ۵ ایک میت نے زوجہ، دو حقیقی بہنیں ایک اخیافی بہن اور والدہ وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ جب کہ ترکہ کی مالیت ۳۰۰۰ روپے ہو۔1/7 پہلا طریقہ زوجہ کا حصہ