اسلام کا وراثتی نظام — Page 14
۱۴ کی بنیا د سراسر مساوات اور امن پر ہے۔اسلام نے مذکورہ بالا نظاموں کی طرح دنیا کو ایک نظام وراثت بھی عطا فرمایا دوسرے مذاہب والے اس نظام کی حکیمانہ تعلیم کے بارہ میں عموماً خاموش ہیں۔مرنے کے بعد انسان جو مال اور جائداد چھوڑ جاتا ہے اسے کیا کیا جائے؟ اسلام نے اس سوال کا ایسا پر معارف جواب دیا ہے جس کی نظیر باقی تمام مکتبہ ہائے فکر پیش نہیں کر سکتے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس ضرورت کو دیکھتے ہوئے چند ایسے اصول مقرر فرما دیئے جن سے ورثاء کے درمیان ترکہ کی تقسیم نہایت منصفانہ طریق پر عمل میں آتی ہے۔انسان جب اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو ان چیزوں پر جنہیں وہ اپنی زندگی میں اپنی ملکیت سمجھ رہا تھا۔اس کا کوئی تصرف نہیں رہتا۔اس لئے ضرورت تھی کہ یہ جائداد لازماً میت کے ورثاء میں تقسیم کی جائے۔سو اسلام نے اس تقسیم کے لئے ایسے اصول جاری کر دیئے جن سے ہر قسم کے اختلافات اور باہمی کشمکش جن کے نتیجہ میں نسلوں تک بغض، کینہ اور دشمنی کے جراثیم جنم لیتے ہیں ختم کر دیئے اور ہر ایک وارث کو اس کا پورا پورا حق دلا کر ایک باوقار طریق سے زندگی بسر کرنے کا اہل بنا دیا۔نیز ہر قسم کے خاندانی تنازعوں کا ہمیشہ ہمیش کے لئے قلع قمع کر دیا۔اسلام نے ترکہ کی تقسیم کے لئے ایک ایسا کارآمد ، مفید اور قابل عمل نظام وراثت رائج کیا ہے جو ہر ملک، ہر دور، ہر جگہ کے حالات پر پورا اتر سکے ، غرض اسلامی قانون وراثت قرآن کریم کے علمی معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ایک تو اس طرح کہ یہ قانون اسلام کے بے نظیر قانونِ اقتصاد کا ایک اہم جزو ہے۔اسلامی قانونِ اقتصاد کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ انسان کو اس کی محنت کاوش اور دماغ سوزی کے جائز ثمرات سے محروم نہیں کرتا۔جس طرح اشتراکیت کرتی ہے اور دوسری طرف ایسے منصفانہ اصولوں پر پیداوار اور ذرائع پیداوار کو تقسیم کرتا ہے کہ ذرائع پیداوار چند ہاتھوں میں جمع نہ ہونے پائیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چند انسان ذرائع پیداوار پر قابض ہو کر باقی انسانوں کو ترقی سے محروم کر دیتے ہیں۔جن ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے وہاں یہی کچھ ہو رہا ہے انسانوں کے درمیان اس مہلک تفاوت کو مٹانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو قوانین دیئے ہیں ان میں سے ایک نہایت اہم قانون۔