اسلام کا وراثتی نظام — Page 197
۱۹۷ نوٹ: اس دوسری قسم کے دعویدار عمام اور عمات کی اولادیں ہیں اس لئے امام محمد اور امام ابو یوسف کے اصول کے تحت دعویداروں کے حصوں میں فرق پڑ جائے گا۔یعنی امام ابو یوسف کے نزدیک پدری اور مادری دونو سلسلوں کی اولادوں کو للذكر مثل حظ الانثیین کے اصول کے تحت حصے دیئے جائیں گے۔مثال نمبر 1: ایک میت نے حقیقی پھوپھی کی ایک لڑکی اور ایک لڑکا ، اخیافی چچا کا بیٹا اور حقیقی ماموں کا ایک لڑکا وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔حقیقی پھوپھی کی اولاد کی موجودگی کی وجہ سے اخیافی چچا کی اولا د محروم ہو گی۔لہذا پدری سلسلہ کی اولاد کا حصہ (۲/۳) پھوپھی کی اولاد میں ۲ اور ا کی نسبت سے لڑکے اور لڑکی میں تقسیم ہو گا۔اس لئے ان کے حصے بالترتیب ۴/۹ اور ۲/۹ ہوں گے۔مادری سلسلہ میں صرف ایک ہی دعویدار ہے اس لئے اس سلسلہ کا حصہ (۱/۳) حقیقی ماموں کے لڑکے کومل جائے گا۔مثال نمبر ۲: ایک میت نے اخیافی چچا کا ایک لڑکا اور دو لڑکیاں، حقیقی ماموں کی بیٹی اور حقیقی خالہ کا ایک بیٹا مع ایک زوجہ کے وارث چھوڑے ہر ایک کا حصہ بتاؤ۔پدری سلسله (۲/۳) مادری سلسله (۱/۳) حقیقی ماموں حقیقی خاله اخیافی چچا بیٹا زوجہ کا حصہ باقی پدری سلسلہ کا حصہ 1/M - 1 = = 1/3 = 1/3 بینا